بلوچستان حکومت عوام کا معیار زندگی بلند کرنے ،بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے تمام ممکن اقدامات اٹھارہی ہے ،لیاقت شاہوانی

0 158

صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے بلوچستان کنزیومر رائٹس ایکٹ 2003 میں ترمیم لائی جارہی ہے،ترجمان حکومت بلوچستان
کوئٹہ( امروز ویب ڈیسک)بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے تمام ممکن اقدامات اٹھارہی ہے ، صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے بلوچستان کنزیومر رائٹس ایکٹ 2003 میں ترمیم لائی جارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صارفین کے حقوق کے عالمی دن پر پامیر کنزیومر سوسائٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ میں ایک روزہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا،سیمینار سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءنوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی،جماعت اسلامی کے رہنماءعبدالمتین اخونزادہ ،جے یو آئی نظریاتی کے رہنماءقاری مہراللہ ،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نورالدین کاکڑ،پاکستان مسلم لیگ (ن )کے رہنما نسیم الرحمان ملاخیل ، پامیر کنزیومر سوسائٹی کے چیف کوآرڈینیٹر نذربڑیچ ، حاجی سلیم ناصر،شاحسین ترین ،حاجی مسعود اقبال ،ڈاکٹر طاہر بڑیچ اور تاج محمد بڑیچ ، محمد اسلم رند ،حاجی نظام الدین افغان نے خطاب کیا،

لیاقت شاہوانی نے کہا کہ بلوچستان حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کے کئی منصوبوں پر عمل پیرا ہے ، صحت ، تعلیم ،مواصلات سمیت مختلف شعبوں کی بہتری کے منصوبے چل رہے ہیں۔ صارفین کو صاف ستھری اشیاء کی فراہمی ، بلیک مارکیٹنگ اور زخیرہ اندوزی کے خاتمے سمیت کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کے خاتمے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو فعال کیا گیا ہے ، سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ بااختیار نہیں ہوگا عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے ،ریاست کو چاہئے کہ ان کے پاس وسائل کتنے ہیں ،

طلب اور رسد کو مدنظر رکھ کر ہی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے نظام کو عوام کے حقیقی نمائندے ہی درست کرسکتے ہیں الیکشن خریدنے والے کبھی عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتے و،یر اعظم صاحب نے خود کہا کہ 70 کروڑ میں ووٹ خریدے جارہے ہیں پھر اس قسم کے لوگ کس طرح عوام کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے کہا عوام کومسائل اور مشکلات سے نکالنے کیلئے ایک بااختیار پارلیمنٹ ضروری ہے ، دنیا کے مہذب ممالک میں معیار کا تعین پارلیمنٹ کرتا ہے

اور ادارے اس قانون پر عمل درآمد کرواتے ہیں ، اس موقع پر نذر محمد بڑیچ نے پریزنٹیشن پیش کی اور کہا کہ بلوچستان میں کنزیومر رائٹس ایکٹ 2003 میں بن چکا ہے مگر آج تک کنزیومر کورٹس قائم نہیں کئے گئے۔دیگر مقررین کا کہنا تھا پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال ہے حکومت نے پرائس کنٹرول کمیٹیو ں کا اختیار ڈپٹی کمشنرز سے لیکر محکمہ انڈسٹریز کودے دیا ہے جس کی وجہ مہنگائی کی صورتحال مزید خراب ہوگئی اور لوگ نہ صرف مہنگی بلکہ ملاوٹ شدہ اشیاءخریدنے پر مجبور ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.