کراچی؛ کشیدگی ناردرن بائی پاس تک پھیل گئی، فائرنگ سے 9زخمی

0 155

کراچی / حیدر آباد: سہراب گوٹھ سپر ہائی وے پر دوسرے روز بھی کشیدگی رہی، دن بھر پولیس اور بلوائیوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

جمعہ کو دوسرے روز بھی سہراب گوٹھ ، الاآصف اسکوائر ، کوئٹہ ٹاؤن ، گنا منڈی اور اطراف کے علاقوں میں کشیدگی رہی ، نماز جمعہ سے قبل سپر ہائی وے پر نامعلوم افراد نکل آئے اور وہاں کھڑی ایک ناکارہ گاڑی کو آگ لگا کر فرار ہوگئے۔

واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ، الآ صف اسکوائر ، ابو الحسن اصفہانی روڈ ، کوئٹہ ٹاؤن ، جنت گل ٹاؤن ، الآصف چورنگی اور اطراف میں پولیس و رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی نماز جمعہ کے بعد پولیس نے کراچی بس ٹرمینل کے عقب میں واقع آبادی میں آپریشن کیا۔

پولیس کی بھاری نفری علاقے میں داخل ہوئی ، اس دوران علاقہ مکینوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا ، پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی اور آنسو گیس کی شیلنگ کی لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ، رات گئے تک علاقے میں صورتحال کشیدہ رہی جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

علاوہ ازیں جمعرات کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دو مقدمات سہراب گوٹھ اور سچل تھانے میں درج کرلیے گئے ، مقدمات میں قتل ، اقدام قتل ، ہنگامہ آرائی ، ایما ، بلوہ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ عائد کیے گئے ہیں ۔دریں اثنا سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ہوٹل میں ہونے والے جھگڑے کے دوران قتل ہونے والے نوجوان بلال کاکاکے قتل کیس میںگرفتار ملزم شاہ سوارپٹھان کو مزید 7روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

عدالت نے مدعی کے وکیل کی نشاندہی پر تفتیشی آفیسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی آفیسر سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر ملزم شاہ سوار پٹھان نے عدالت سے کہا کہ اس کی حالت خراب ہے اوراسے میڈیکل کی ضرورت ہے جس پر عدالت نے تفتیشی آفیسر کوہدایت کی کہ اگرملزم کو میڈیکل کی ضرورت ہے تواسے میڈیکل کی سہولت دی جائے۔

دوسری طرف بھٹائی نگر پولیس نے بلال کاکا قتل کیس میں نامزد مزید ایک ملزم محمد افضل خان پٹھان کو بھی گرفتار کرلیا ہے جسے آج ہفتہ کے روز متعلقہ عدالت میں ریمانڈ کیلیے پیش کیا جائے گا۔ جمعہ کی شب سپر ہائی وے پر جاری ہنگامہ آرائی کے دوران سہراب گوٹھ کے علاقے الاآصف اسکوائر کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عادل ولد عبید زخمی ہوگیا جیسے عباسی شہید اسپتال میں طبی امداد جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیس کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہر قائد کی کوئی بھی سڑک بند نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی شرپسند عناصر سڑک بند کرنے کی کوشش کرے تو اسے سختی سے نمٹا جائے، انھوں نے مزید ہدایت کی کہ سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اگر کوئی حرکت کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،انھوں نے پولیس کو بتایا کہ شہر میں افواہیں گردش کررہی ہیں کہ سڑکیں بند کی جائیں گی جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ایسا بالکل نہ ہونے پائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت نے تمام متعلقہ افراد سے اس معاملے پر بات چیت کی ہے اور تمام فریقین اس قسم کی حرکت سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں، انھوں نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہر کی معمول کی زندگی کو ہر صورت یقینی بنائیں، اس معاملے میں کسی قسم کی شرپسندی یا انتظامیہ کی جانب سے غفلت کو برداشت نہیں کروں گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.