ایران بارڈر کی بلاجواز بندش سے لوگ نان شبینہ کا محتاج بن گئے ہیں ،آغا شاہ حسین بلوچ

0 84

پنجگورحق دو تحریک بلوچستان ضلع پنجگور نے ایرانی بارڈر پر کاروبار کی بندش بارش اور سیلاب متاثرین کی عدم بحالی پنجگور کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی اور ادویات کی فقدان بلاجواز انٹرنیٹ کی بندش پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی صوبائی حکومت اور پنجگور انتظامیہ سے فوری طور پنجگور ایرانی بارڈر پر کاروبار کو بحال اور مزید کراسنگ پوائنٹ کھولنے سیلاب متاثرین کی امداد وبحالی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور اور ادویات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ان خیالات کا اظہار حق دو تحریک بلوچستان ضلع پنجگور کے آرگنائزر آغا شاہ حسین بلوچ ،ڈپٹی ارگنائزر ملا فرہاد بلوچ ،ترجمان حافظ سراج احمد ،اشرف ساگر ،حافظ صفی اللہ بلوچ ،حاجی اکبر دھانی نے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر حق دوتحریک کے کارکنوں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کی کثیر تعداد موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ ضلع پنجگور بلخوص بلوچستان کی معیشت اور روزگار کا دآر مدار ایرانی بارڈر خصوصا کاروبار سے منسلک ہے مگر گزشتہ دو مہینے سے ایرانی بارڈر کی بلاجواز بندش سے پنجگور اور خصوصا بلوچستان کی کاروبار ٹھپ اور روزگار مکمل طور پر بند ہوگیا ہے اور لوگ نان شبینہ کا محتاج بن گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ ایرانی بارڈر پر ایف سی کی مداخلت کو بند کرکے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا ہے لیکن تاحال ایسانہیں ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،آئی جی ایف سی اور دیگر اعلی حکام کی دورہ پنجگور پر انہوں نے پنجگور ایرانی بارڈر کو عوام کیلئے آسانی پیدا کرنے بارڈر پر مزید کراسنگ پوئنٹ کھولنے کا باقاعدہ اعلانات کئے تھے لیکن تاحال ان اعلانات پر عمل درامد نہیں کیا گیا ہے جوافسوسناک عمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجگور پاکستان کا معاشی حب ہے لیکن بدقسمتی سے ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت اس معاشی حب کو سبوتاژ کرکے لوگوں کے روزگار کو چھینا جارہا ہے۔

انہوں ضلع پنجگور اس ملک کا حصہ ہے اس ملک کے حصے ہونے کی وجہ سے اس ملک کے بنیادی سہولتوں کا حق بھی ضلع پنجگور کے عوام کوحاصل ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ تین مہینے سے پنجگور میں انٹرنیٹ کو بند کردیا گیا ہے جس سے تعلیمی اور کاروباری نظام مفلوج ہوکر رہ گیا طلباء کی آن لائن تعلیمی پروگرام اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پنجگور میں موسمی بیماریوں نے ہر گھر کو شدید متاثر اور سینکڑوں بچے بوڈھے ہسپتالوں میں سیکنڈ شفٹ میں ڈاکٹرز کی عدم موجودگی اور ادویات کی فقدان کے باعث مشکلات کا شکار ہیں لیکن حکومت صرف دعووں تک محدود ہوگئی ۔انہوں نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورے پنجگور پر وعدہ کیا گیا تھا کہ لاپتہ پنجگور کے رہائشی ظہراحمد بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کو منظر عام پر لاکر بازیاب کیا جائے گا لیکن تاحال لاپتہ ظہیراحمد اور دیگر لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوسکے جس سے لاپتہ افراد کے لواحقین کی تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پنجگور میں جولائی سے تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے 16 افراد جاں بحق اور ہزاروں مکانات اور دیواریں بارش اور سیلابی ریلوں میں بہہ کر زمین بوس ہوگئے زرعی بندات اور باغات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں زمینداروں کے کھجور اور دیگر فصلات کو شدید نقصان ہوا ہے جس سے زمینداروں کو کروڈوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پنجگور میں معاشی بحران کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے حق دو تحریک بلوچستان ضلع پنجگور وفاقی صوبائی حکومتوں ضلعی انتظامیہ اور خصوصا وفاقی حکومت میں شامل بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء سے مطالبہ کرتا ہے کہ پنجگور میں بلاجواز ایرانی بارڈر کی بندش ضلع میں بغیر کسی وجہ کے انٹرنیٹ کی معطلی سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور ادویات کی کمی بارش اور سیلاب زدگان کی عدم بحالی سمیت لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کا نوٹس لیکر پنجگور میں ایرانی بارڈر میں کاروبار فوری بحال رکھنے جیرک بارڈر کے علاوہ مزید کراسنگ پوائنٹ کھولنے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور ادویات فراہم کرنے سیلاب زدگان کی بحالی زمینداروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے علاوہ پنجگور میں انٹرنیٹ ڈیٹا بحال کرنے کی اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے بصورت دیگر حق دو تحریک بلوچستان ضلع پنجگور شدید احتجاج پر مجبور ہو گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.