بلوچستان میں سابقہ چار چیف سیکرٹریوں کا احتساب کیا جائے، میرعبدالروف مینگل
کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کےمرکزی کمیٹی کےممبرسابق ایم این اےمیرعبدالرؤف مینگل نےمطالبہ کیاہےکہ بلوچستان میں گزشتہ چارچیف سیکرٹریوں چھٹہ سےلیکراب تک ان سب کااحتساب کیاجائےجنھوں نےبلوچستان کےوسائل کومال غنیمت سمجھ کربےدردی سےلوٹاہےاور سترسالوں سےچیف سیکرٹری آئی جی اوردیگراعلٰی عہدوں پربلوچستان کےلوگوں کےحقوق اورصلاحیتوں پرڈاکہ ڈالاگیاہےجوجدیدسائنسی شعوری علمی انسانی صدی میں ظلم ہےآیابلوچستان اتنابھی کمزورنہیں کہ چیف سیکرٹری اورآئی جیسےعہدوں کےمعیارماہرین پیدانہ کرسکے
جوبلوچستان کےاعلٰی تعلیم یافتہ لوگوں کےحقوق پرڈاکہ ہےاورتسلسل سےاس نارواعمل کودہرایاجارہاہےکیونکہ باہردیگرصوبوں کےچیف سیکرٹریزمحض مصنوعی بنیادوں پراسکیمات وغیرہ تجویزکرکےحصہ بٹورتےہیں لیکن عملاً ہوتاکچھ بھی نہیں جواستحصال کابنیادی وجہ ہےاٹھارویں ترمیم کےبعدصوبوں کوحاصل اختیارات کےتحت باہرسےاعلٰی عہدوں پراس طرح تعنیاتی بنیادی آئینی حقوق پرقدغن ہےجس کہ شدید مزمت کرتےہیں بدقسمتی بلوچستان کےاختیارات حکومت سازی سےلیکرترقیاتی تعلیمی طبی معاشی منصوبہ بندی غیرمقامی یاغیرمتعلقہ نان ٹیکنیکل لوگ کرتےہیں جس سےبلوچستان کی بنیادی مسائل وحقوق پردسترس ممکن نہیں رہتا
جوبلوچستان کےساتھ جاری ناانصافیوں کانہ ختم ہونےوالاجارہ دارانہ نظام ہےموجودہ صوبائی حکومت نےکرپشن کےتمام دراوازےکھول کرتین سالوں سےصرف منصوبوں وکوئٹہ توسیع کےنام پرسروےپرکروڑوں روپےضائع کردئیےہیں بجلی گیس پانی دوائی تعلیم کتاب دستیاب نہیں کاغزوں کوئٹہ پیرس تعلیم کامعیارآکسفورڈ کوپیچھے چھوڑدیاہےحقیقت میں گزشتہ سال سےتعلیمی نظام تباہ میرٹ کی پامالی کےبعدجعلی ڈومیسائل کی اجراء میں باہرسےدرآمدشدہ چیف سیکرٹریزودیگرکی مبینہ خواہش پربلوچستان کےنوجوانوں حقوق وروزگارپرڈاکہ ڈالاگیاان کی تدارک کےبجائےسی اینڈڈبلیوکے361ملازمین کوبےروزگارکیاگیاجوبلوچستان کے ساتھ بدترین استحصال کی شکل ہے جس کاذمہ دارجام کی کرپٹ بدعنوانی حقوق دشمن نااہل عہد حکمرانی ہےجوقابل مزمت ہے