تمام قیاس آرائیاں مسترد ، پی ڈی ایم متحد ہے اور نیا سیاسی نظام دے گی ،مسلم لیگ (ن)

تمام قیاس آرائیاں مسترد ، پی ڈی ایم متحد ہے اور نیا سیاسی نظام دے گی ،مسلم لیگ (ن)

پی ڈی ایم کسی حکومت کو صرف ہٹانے کےلئے نہیں ،نظام تبدیل کرنے کےلئے آئی ہے ،جس نے ڈسکہ میں ووٹ سمیت عملہ اٹھالیا وہ وزیراعظم انتخابی اصلاحات کا خط لکھ رہا ہے ،سپیکر کو روایات، آداب اور قواعد تک کا پتہ نہیں ، یہ دونوں جاہل ہیں ،الیکٹرانک مشینوں کو اگر کوئی اٹھا کر لے گیا تو کیسے اس کا تدارک کریں گے ،جب تک الیکشن چوری ختم نہیں ہوگی، جب تک آئین توڑنا ملک سے غداری نہیں ہوگا اس وقت تک ملک نہیں چلے گا ،مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر اعظم تارڑ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ہونگے ، سب کا اتفاق ہے، شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن)نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہوا ہے ، پی ڈی ایم متحد ہے اور نیا سیاسی نظام دے گی ،پی ڈی ایم کسی حکومت کو صرف ہٹانے کےلئے نہیں ،نظام تبدیل کرنے کےلئے آئی ہے ،جس نے ڈسکہ میں ووٹ سمیت عملہ اٹھالیا وہ وزیراعظم انتخابی اصلاحات کا خط لکھ رہا ہے ،سپیکر کو روایات، آداب اور قواعد تک کا پتہ نہیں ، یہ دونوں جاہل ہیں ،الیکٹرانک مشینوں کو اگر کوئی اٹھا کر لے گیا تو کیسے اس کا تدارک کریں گے ،جب تک الیکشن چوری ختم نہیں ہوگی، جب تک آئین توڑنا ملک سے غداری نہیں ہوگا اس وقت تک ملک نہیں چلے گا ،مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر اعظم تارڑ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ہونگے ،

سب کا اتفاق ہے ۔بدھ کو ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن)کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اوراحسن اقبال نے مریم ار نگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پی ڈی ایم کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہورہی ہیں ،بہت سے افراد نے سوال اٹھائے ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ڈی ایم متحد ہے، قائم ہے اور نیا سیاسی نظام دیگی،پی ڈی ایم کسی حکومت کو صرف ہٹانے کے لیے نہیں نظام تبدیل کرنے آئی ہیں ،جب تک ملک آئیں کے مطابق نہیں چلے گا، نیا سیاسی نظام نہیں آئے گا یہ ملک نہیں چلے گا ،جب تک الیکشن چوری ختم نہیں ہوگی، جب تک آئین توڑنا ملک سے غداری نہیں ہوگا اس وقت تک ملک نہیں چلے گا ،ہمیں اقتدار نہیں چاہیے، ہم صرف اور صرف نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں ،پی ڈی ایم نے اتفاق رائے سے تمام فیصلے کیے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ استعفوں پر اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکا ہے، پیپلز پارٹی کو مہلت دی گئی ہے کہ آپ سی ای سی سے اجازت لیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت حکومت میڈیا، پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہے ،پی ڈی ایم کی کامیابی ہے کہ بند کمروں کی باتیں اب سرعام ہورہی ہیں ،اب مقدس گائے کوئی نہیں ہے، ہر بات ببانگ دہل ہورہی ہے ،پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں ہے، بن سکتا ہے اور نہیں بھی بن سکتا، یہ بعد کی بات ہے ،پی ڈی ایم اپنا سفر جاری رکھے گی،

۔ انہوںنے کہاکہ اس ملک کے وزیراعظم نے سپیکر کو خط لکھا ہے جو خود ایوان میں نہیں آتا ،سپیکر کو روایات، آداب اور قواعد تک کا پتہ نہیں ہے ، یہ دونوں جاہل ہیں ،جس نے ڈسکہ میں ووٹ سمیت عملہ اٹھالیا وہ وزیراعظم انتخابی اصلاحات کا خط لکھ رہا ہے ،اب ایک گھر میں خطوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آپ اصلاحات چاہتے ہیں تو ڈسکہ ووٹ چوری کرنے والوں کو پکڑیں، کیمرے لگانے والوں کو پکڑیں،الیکٹرانک مشینوں کو اگر کوئی اٹھا کر لے گیا تو کیسے اس کا تدارک کریں گے ،جو الیکشن چوری کرنے میں ملوث ہیں وہ اب الیکٹرانک ووٹنگ کی بات کررہے ہیں ،جس طرح بھیڑیا جب بھیڑوں کی نگرانی کرے تو اس کا انجام سب کو پتہ ہے ،انٹرا پارلیمانی کمیٹی، اور الیکشن اصلاحات کی بات کی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جس پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں چلتا، جس سپیکر کے سامنے اپوزیشن رہنماو¿ں کو گالیاں نکالی گئیں۔ انہوںنے کہاکہ سپیکر اگر اختیارات اور آداب کا معلوم ہے تو پھر یہ الفاظ حذف کئے جائیں

ورنہ بے شرمی کے ساتھ نوکری جاری رکھیں ،جس ایوان میں عوامی ایشوز اٹھانے پر روکا جائے تو پھر سپیکر پر کون اعتماد کرے گا ،جسے اپوزیشن کی خالی نشستیں نظر نہیں آتی، ارکان اسمبلی پر اسی احاطہ میں ایک جتھہ حملہ آور ہوتا ہے،سپیکر خاموش رہتا ہے، لیڈر آف دی ہاو¿س اسی روز خطاب میں نام لے کر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے ،اسی سپیکر نے پارلیمنٹ لاجز میں میڈیا پر پابندیاں لگادی گئیں ،ہم نے سپیکر سے پروڈکشن آرڈرز تک مانگنے چھوڑ دیئے ہیں ،آج پی ڈی ایم اپنے نظریئے پر اپنے مقصد پر قائم ہے اور آگے بڑھے گی۔ احسن اقبال نے کہاکہ سی پیک میں 29 ارب کی سرمایہ کاری لگائی گئی، مہنگائی ختم کی، دہشت گردی کا خاتمہ کیا ،ان سے پوچھتے ہیں جنہوں نے ان نااہل لوگوں کو مسلط کیا گیا کہ عوام کا کیا قصور تھا ،اگر ترقی ساڑھے چھ فیصد پر چلی جاتی تو ہم خوش ہوتے ،مگر ہم سے کامیابی چھین کر ان کو دی گئی جنہوں نے ملک کو چیر پھاڑ دیا ،آج قوم آپ سے جواب مانگتی ہے بھارت ساڑھے گیارہ پر ترقی کررہا ہے

اور ہم منفی چار پر چل رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی اس معاشی تباہی کا کون ذمہ دار ہے؟ ایسی صورت حال رہی تو ہم نیپال اور سری لنکا بن جائیں گے ،ایسی صورت میں ایٹم بم شم کام نہیں آئے گا، اس کا جواب کون دے گا ،کون جواب دے گا کہ 3 سال میں برآمدات ہمارے دور سے کم ہوگئیں ،کون جواب دے گا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری تیس فیصد گر چکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایک ہزار ارب کا ترقیاتی بجٹ 500 ارب کردیا گیا ہے ،اعلی تعلیم اور صحت کا بجٹ کم کردیا گیا ،دفاعی بجٹ میں اضافے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں اور دو سال سے فریز کردیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ مہنگائی کی ملک میں وہ شرح ہے جو گزشتہ پچیس سال میں نہیں تھی،کون جواب دے گا کہ سی پیک کا ایک نیا منصوبہ یہ شروع نہیں کرسکے،ہمارے دور کے ایک منصوبہ کو بھی مکمل نہیں کیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ کون سقوط کشمیر کا جواب دے گا؟

وزرا سوائے جگتوں کے کچھ نہیں کرتے ،وزیراعظم کبھی چین، کبھی امریکہ، کبھی سعودیہ کا ماڈل بتاتے ہیں مگر آپ کا ماڈل صرف تباہی و بربادی ہے ،ہم یہ ملک آپ کے پاس مزید نہیں رہنے دیں گے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر (ن )لیگ کو دیا گیا، اعظم تارڑ پر سب نے اتفاق کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم کونسل آف ایلڈرز میں کوئی نام نہیں دیا، یہاں کوئی قبیلہ نہیں ہے، پارلیمنٹ میں کمیٹیاں ہوتی ہیں ،پاکستان پیپلز پارٹی کی رائے سے اختلاف کرتا ہون مگر انہیں اختلاف رائے کا حق ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان کی ہر جمہوری پارٹی پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں