دباؤ محسوس کررہے ہیں اور ہمیں بھی لائن میں آنے کیلئے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ بلاول بھٹو

0 173

(امروز نیوز)

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم دباؤ محسوس کررہے ہیں اور ہمیں بھی لائن میں آنے کیلئے دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن پہلے بھی دباؤ میں آئے اور نہ آئیں گے۔

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ نا ملٹری کورٹ ہے نا ان کیمرہ کورٹ ہے، عوام کو حق ہے عدالت آنے کا اور کارروائی دیکھنے کا لیکن وکلا کو عدالت آنے سے روکا گیا جس سے کارروائی میں تاخیر ہوئی۔

توشہ خانہ ریفرنس: نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری اور اشتہاری قرار دینے کی کارروائی چیلنج
توشہ خانہ ریفرنس: نواز ، زرداری اور گیلانی احتساب عدالت میں طلب
بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ کیا یہ سب جج پر دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی یا ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش؟ زرداری کا اتنا ڈر ہے کہ اسلام آباد کی تمام پولیس یہاں کھڑی کردیتے ہو، 17اگست کو مینگو ڈے ہوتا ہے، یہ ایک آمر کا آخری دن تھا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھاکہ اپوزیشن پر دباؤ ڈال کر کٹھ پتلی کی طرح چلانے کی کوشش کررہے ہو ،پیپلزپارٹی نے یحییٰ، ضیا اور مشرف آمریت کا بھی مقابلہ کیا، اس کٹھی پتلی حکومت کا بھی مقابلہ کریں گے، ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ ہم بھی لائن میں آجائیں، ہم نہ پہلے دباؤ میں آئے ہیں نہ اب دباؤ میں آئیں گے ، جمہوریت ، این ایف سی ، 18ویں ترمیم کسی پر اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے، پورے خاندان کو گرفتار کرنا ہے کرلو، 18 ویں ترمیم پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو کٹھ پتلی وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھا ہے اس کی ڈور کہیں اور سے ہلتی ہے، یہ کٹھ پتلی اور جعلی حکومت نہیں چلے گی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب آپ کے پاس کوئی کیس نہیں ہوتا کوئی دلیل نہیں ہوتی تو گالی دی جاتی ہے، سپریم کورٹ کے وکلا کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، نیب کے وکیل کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی تو وکیل ساتھیوں کو گالی دے رہا تھا

Leave A Reply

Your email address will not be published.