بلوچستان کی ترقی کے دعوے محض طفل تسلیاں ہیں، ثناء بلوچ
بلوچستان سے ملک بھر میں جانے والی 7میں سے اس وقت صرف ایک ٹرین چلائی جارہی ہے
کوئٹہ(امروز ویب ڈیسک) بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ،رکن صوبائی اسمبلی ثناءبلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے دعوے محض طفل تسلیاں ہیں، مختلف حیلے بہانوں سے کوئٹہ سے چلنے والی ٹرنینیں بند کرنا قابل مذمت ہے حکومت اگر سہولت نہیں دے سکتی تو مسافروں کو سستی سواریوں سے محروم بھی نہ کرے، بلوچستان سے ملک بھر میں جانے والی 7میں سے اس وقت صرف ایک ٹرین چلائی جارہی ہے، ان خیالات کااظہار انہوں نے ریل مزدور محاذ کوئٹہ ڈویژن کے مزدور محاذ ڈویژن صدر لعل محمد یوسف زئی،افضل بنگلزئی،خدا بکش لانگو،عطاءمحمد بلوچ،سید محمد بگٹی،عاقل خان بگٹی،محمد ستار ،کامریڈ سلطان ،عارف زہری ودیگر مزدوروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ اور ثناءبلوچ نے کہا کہ ہم صوبائی اسمبلی کی بحث میں ہر معاملات زیر غور کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان کی ترقی کاجز قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ دعوے محض لفاظی ہیںبلوچستان ترقی کا وہ انوکھا جز ہے بہتر کرنے کی بجائے حکومت اسے مزیدپسماندہ کررہی ہے انہوں نے کہا کہ صوبے سے ملک بھر کے لئے 2006میں 7 ٹرینیں چلتی تھیں جنہیں ریلوے حکام نے مختلف بہانے بنا کر تین کردیا اور بلوچستان کو ترقی دینے کی دعویدار حکومت میں سال2020میں کورونا وائرس سے بچا کی آڑ میں یہ تعداد 1کردی گئی ہے ہمیں کورونا وائرس سے زیادہ حکومتی وائرس سے خطرہ ہےجو رفتہ رفتہ ہمیں پسماندگی کا شکار کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ریل سستی اور محفوظ سواری ہے جس میں متوسط اور غریب طبقے کے لوگ، مریض، اور ہر عمر کے لوگ با آسانی سفر کرسکتے ہیں لیکن کورونا وائرس کا بہانا بنا کر بلوچستان سے چلنے والی بولان میل اور نواب اکبر بگٹی ایکسپریس ٹرینیں بھی بند کردی گئی ہیں کیا یہ وائرس صرف بلوچستان سے پھیل رہا ہے جبکہ ملک بھر سے چلنے والی ٹرینیوں کو بتدریج بحال کردیا گیالیکن صوبے کی عوام کو ریل کی سہولت سے محروم کیا جارہا ہےانہوں نے کہا کہ حکومتی غفلت اور غیر سنجیدیگی کی وجہ سے لوگ مہنگے داموں نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ذریعے لوگوں کو سفر کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہرنائی اور زاہدان ٹریک کا عرصہ دراز سے تکمیل کے باوجودبحال نہ ہونا تشویشناک ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں خواب خرگوش میں سوئی ہوئی ہیں جبکہ عوام یہاں پریشانی کا شکار ہےانہوں نے کہا کہ محکمہ ریلوے کے ملازمین کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں انکی شنوائی نہ ہونا قابل مذمت ہے حکومت کوچاہیے کہ وہ نہ صرف بلوچستان سے ماضی میں چلنے والی تمام ٹرینیں بحال کر ے بلکہ ملازمین کے تمام مطالبات کو بھی من و عن تسلیم کرے بلوچستان میں اپوزیشن ارکان ریل مزدور محاذ کوئٹہ ڈویژن کا بھر ساتھ دیں گے