حکومتی مہنگائی کیساتھ مصنوعی مہنگائی نے عوام کا جیناحرام کر دیا ہے
کوئٹہ (امروزنیوز ) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم ،صحت کے میگاپراجیکٹ شروع کرکے عوام کے دیرینہ مسائل حل کیے جائیں روزگارکی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے حکومتی مہنگائی کیساتھ مصنوعی مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے حکومت ٹریفک حادثات روکھنے کیلئے بلوچستان کے قومی شاہراہوں کو دورویہ بنایا جائے فوڈ اتھارٹی کے چھاپے خوش آئند پرائس کنٹرول کمیٹی کو بھی کام کرنا چاہیے سول ہسپتال،بی ایم سی میں ڈاکٹرزودیگر عملہ کو ڈیوٹی کاپابند اور ہسپتال کو ادویات ودیگر ضروریات فراہم کی جائے پولیو کے خاتمے کی طرح حکومت کینسر ودیگر خطرناک امراض کے خاتمے کیلئے بھی قومی جوش وجذبے اورجنگی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت ،منتخب نمائندوں نے عوامی مسائل حل کرنے سے منہ موڑ لیا ہے کسی بھی سطح پر عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی بے روزگاراہل وپڑھے لکھے نوجوان پریشان ہیں حکومتی سطح پر سفارش ورشوت کلچر نے نوجوانوں کومایوس کردیاہے ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابرہے تعلیم وصحت کے ادارے تباہ ہورہے ہیں جماعت اسلامی بلوچستان کو خوشحال اور ملک کو اسلامی بنانے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے ہم عوام کو حکومتی غفلت وکوتاہی اور بے آسرانہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی عوام کا استحصال ہونے دیں گے الحمد اللہ جماعت اسلامی اقتدار کے بغیر دستیا ب وسائل کو بروئے کا رلاکر ملک بھر میں تعلیم وصحت سمیت دیگر شعبوں میں ریلیف کاکام کر رہی ہے اورعوامی اجتماعی سلگتے مسائل کواجاگر کر رہے ہیں بلوچستان میں کیوں موٹروے، گرین ٹرین اورمیٹروبس نہیں یہ زیادتی کب تک چلے گی اوروفاق وصوبے کی حکومتوں کی غفلت کا کب تک شکار رہیں گے بلوچستان کو سترسال سے پسماندہ رکھا گیا ہے صوبے میں کہیں کوئی میگا پراجیکٹ نہیں سی پیک بلوچستان گوادرکی وجہ سے بن رہاہے مگر اس میں بھی بلوچستان کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی جو لمحہ فکریہ اور زیادتی ہے ۔حکومت کے پاس بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوئی وژن نہیں بلوچستان میں گھوسٹ سکولز اور گھوسٹ ملازمین کے خلاف کیوں کاروائی نہیں ہورہی حکومت اور اداروں کی جانب سے کب تک ظلم وجبر کے خلاف خاموشی ہوگی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار دینے کیلئے خصوصی اقدامات کریں بلوچستان میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے روزگارکی فراہمی کرکے بلوچستان کے نوجوانوں کو منشیات بے راہ روی سے روکھا جاسکتا ہے۔