پاکستان میں معاشی استحکام لانے کے لئے پالیسیاں تبدیل کرنی ہونگی
پاکستان مسلم لیگ بلوچستان کے صدر اور سابق صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام لانے کے لئے پالیسیاں تبدیل کرنی ہونگی اسد عمر کی وزارت خزانہ سے ہٹائے جانے سے کوئی معاشی خوشحالی کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے ہم کئی دہائیوں سے غلط معاشی پالیسی کی بدولت بیرونی قرضوں کے تلے دب ہوئے ہیں ،اپنے ایک بیان میں جعفر مندوخیل نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بھی انٹر نیشنل ڈونر ایجنسیز کی مدد کی ضرورت ہے اور ہم آئی ایم ایف ایشین بےنک اور عالمی بینک کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کا سارا بجٹ قرضے پر چلنے کا عادی ہے ،ہم ایک طویل عرصے سے قرضے لیکر ملک چلا رہے ہیں ہم اس پوزیشن میں بھی نہیںہیں کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کرسکیںلہذا یہ بات ناممکن ہے کہ اسد عمر سے وزارت واپس لئے جانے سے کوئی معاشی بہتری یا خوشحالی آئیگی اس مقصد کے لئے ہم نے پالیسیوں کو بدلنا ہوگا کرپشن وکمیشن کے خاتمے اور ٹیکسوں کی ادائیگی کوہر صورت ممکن بنانے کے لئے بھرپور وعملی اقدامات کرنے ہونگے جعفر مندوخیل نے کہا کہ حفیظ شیخ کو اسد عمر کی جگہ پرلانے سے کوئی بہتری کا امکان نہیں ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حفیظ شیخ ایک اچھی چوائیس ہے لیکن معاشی بدحالی کی صورتحال کو بدلنا ان کی بس سے بھی بالاتر ہے ہمیں پھر بھی بیرونی مدد کی ضرورت ہوگی آئی ایم ایف اور دیگر فورمز پر جاناہوگا جعفر مندوخیل نے کہا کہ ہماری معیشت ان ڈونرز اداروں کی محتاج رہی ہے اور اس صورتحال سے نکلنے اور پاکستان کو خود اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لئے معاشی پالیسی چینج کرنی ہوگی اور میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تبدیلی بہتر پالیسی سے آتی ہے ہیں پرہم آج تک کوئی توجہ نہیں دی ہے