پاکستان میں معاشی استحکام لانے کے لئے پالیسیاں تبدیل کرنی ہونگی

0 125

پاکستان مسلم لیگ بلوچستان کے صدر اور سابق صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام لانے کے لئے پالیسیاں تبدیل کرنی ہونگی اسد عمر کی وزارت خزانہ سے ہٹائے جانے سے کوئی معاشی خوشحالی کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے ہم کئی دہائیوں سے غلط معاشی پالیسی کی بدولت بیرونی قرضوں کے تلے دب ہوئے ہیں ،اپنے ایک بیان میں جعفر مندوخیل نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بھی انٹر نیشنل ڈونر ایجنسیز کی مدد کی ضرورت ہے اور ہم آئی ایم ایف ایشین بےنک اور عالمی بینک کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کا سارا بجٹ قرضے پر چلنے کا عادی ہے ،ہم ایک طویل عرصے سے قرضے لیکر ملک چلا رہے ہیں ہم اس پوزیشن میں بھی نہیںہیں کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کرسکیںلہذا یہ بات ناممکن ہے کہ اسد عمر سے وزارت واپس لئے جانے سے کوئی معاشی بہتری یا خوشحالی آئیگی اس مقصد کے لئے ہم نے پالیسیوں کو بدلنا ہوگا کرپشن وکمیشن کے خاتمے اور ٹیکسوں کی ادائیگی کوہر صورت ممکن بنانے کے لئے بھرپور وعملی اقدامات کرنے ہونگے جعفر مندوخیل نے کہا کہ حفیظ شیخ کو اسد عمر کی جگہ پرلانے سے کوئی بہتری کا امکان نہیں ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حفیظ شیخ ایک اچھی چوائیس ہے لیکن معاشی بدحالی کی صورتحال کو بدلنا ان کی بس سے بھی بالاتر ہے ہمیں پھر بھی بیرونی مدد کی ضرورت ہوگی آئی ایم ایف اور دیگر فورمز پر جاناہوگا جعفر مندوخیل نے کہا کہ ہماری معیشت ان ڈونرز اداروں کی محتاج رہی ہے اور اس صورتحال سے نکلنے اور پاکستان کو خود اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لئے معاشی پالیسی چینج کرنی ہوگی اور میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تبدیلی بہتر پالیسی سے آتی ہے ہیں پرہم آج تک کوئی توجہ نہیں دی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.