کے چیئرمین صادق سنجرانی نے بی این پی-ایم کے سربراہ سردار اختر مینگل سے ملاقات کی۔

0 376

اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل (بی این پی-ایم) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرقیادت وفاقی حکومت سے راہیں جدا کرنے کے بارے میں اپنے فیصلے کے اعلان کے ایک روز بعد پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔

حکومتی اتحاد چھوڑنے کے بعد پارٹی کے ساتھ حکومت کی طرف سے پہلا باضابطہ رابطہ کیا گیا جس میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے بی این پی-ایم کے سربراہ سردار اختر مینگل سے ملاقات کی۔

ذرائع نے بتایا کہ سردار اختر مینگل کی حمایت کے لیے ایک بلوچ رہنما کی حیثیت سے صادق سنجرانی نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے انہیں ایک پیغام پہنچایا۔

انہوں نے اختر مینگل کو یہ بھی بتایا کہ کمیٹی جلد ان سے ملاقات کرے گی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کا پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت سے علیحدگی کا اعلان

بی این پی – ایم کے سربراہ کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے اپنے موقف پر قائم رہنے کا کہا اور کہا کہ وہ اب کچھ نہیں کرسکتے۔

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ’میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا تھا اور گیند اب حکومت کی عدالت میں ہے‘۔

اس پر چیئر مین سینیٹ نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ مذاکراتی کمیٹی کو ان کا پیغام پہنچائیں گے اور کہا ‘ہم آپ کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے بلوچستان سے درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے ایک دن قبل قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد چھوڑنے کے اپنے اعلان کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی تحریک انصاف سے نہیں تھے بلکہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی سے وابستہ تھے جو حکمران اتحاد کا ایک حصہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.