عمان اور بحرین بھی اسرائیل تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار
(امروز نیوز)
متحدہ عرب امارات اور سوڈان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہونے کے بعد دو عرب ملک عمان اوربحرین آنے والے چند دنوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے اعلان کرسکتے ہیں یہ دونوں عرب ممالک بھی متحدہ عرب امارات کی طرح سعودی عرب کے زیر اثر ہیں . متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے اعلان اور سعودی عرب کے بدلے رویئے سے پاکستان کی پریشانی میں اضافہ ہورہا ہے سعودی‘اماراتی اور کویت سمیت ریاض کے زیراثر عرب ممالک میں بڑی تعداد میں پاکستانی لیبر موجود ہے اور یہ اسلام آباد کی بڑی کمزوری ہے .
پاکستان نے کبھی بھی ایسی پالیسی پر توجہ نہیں دی کہ بھارت کی طرزپر منظم ادارے بنائے جائیں جو مختلف شعبوں میں شہریوں کو ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ انگریزی‘عربی اور دیگر زبانیں سکھائی جائیں اس کے ساتھ ساتھ عربوں پر انحصار کی بجائے نئی جاب مارکیٹس تلاش کی جائیں دنیا میں کامن لیبر کی مانگ کم ہورہی ہے جبکہ ہنرمندوں کی مانگ ہمیشہ سے زیادہ رہی ہے.
سعودی عرب کی جانب سے حال ہی ”ناراضگی“ کا اظہار اور معاشی دباﺅ بڑھانے کے لیے وقت سے پہلے قرض کی رقم واپس مانگنا اور موخرادائیگیوں پر تیل کی فراہمی بند کرنے کے پیچھے سالوں سے عربوں اور اسرائیل کی بیک ڈور ڈپلومیسی کارفرماہے اسلامی دنیا میں چونکہ فوجی طاقت کے لحاظ سے پاکستان سب سے طاقتور ملک ہے اور دنیا اسلام کی واحد ایٹمی سپرپاور ہے لہذا اسرائیل ہمیشہ اس سے خائف رہا ہے .
دنیا میں اپنا وجود برقراررکھنے کے لیے فوجی طاقت کے ساتھ معاشی طور پر مظبوط ہونا بھی ضروری ہے یہ افغان سوویت وار میں ثابت ہوچکا ہے اسلام آباد کے لیے لازم ہے کہ وہ عربوں کی بلیک میلنگ سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے تو ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کالونیل بیوروکریٹک سسٹم کو ختم کرئے اور ملک کو چلانے کے لیے فوری طور پر ایک نیا نظام مرتب کیا جائے جوکہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے بس کی بات نظر نہیں آرہا.