73سال گزرنے کے بعد بھی پشتونوں کوشہری تسلیم نہیں کیا جارہا جو بہت بڑا المیہ ہے،اے این پی

0 291

فکر باچا خان کی صدسالہ جہد آج بھی نہ صرف درپیش مصائب ومشکلات سے چھٹکارا پانے میں معاون ومددگار ہے بلکہ ترقی وخوشحالی امن محبت پھیلانے کا ذریعہ ہے
کوئٹہ/ژوب(امروز ویب ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماں نے کہا ہے کہ فکر باچا خان کی صدسالہ جہد آج بھی نہ صرف درپیش مصائب ومشکلات سے چھٹکارا پانے میں معاون ومددگار ہے بلکہ ترقی وخوشحالی امن محبت پھیلانے کا ذریعہ ہے باچا خان اور خان عبدالولی خان جیسے سیاستدان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اگران کی بات مان کر ملک کی تمام قومیتوں اور تمام طبقات کو ان کے آئینی حقوق دیئے جاتے تو آج ہمیں بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیاہے صد سالہ جشن سال بھر جاری رہیگی ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا مرکزی جوائنٹ سیکرٹری رشید خان ناصر ضلعی صدورجمال الدین رشتیا انور خان مندوخیل سردار امیر اللہ کبزئی ملک شکور کاکڑ نذر علی شیخ زمرک مندوخیل شان عالم جمعہ بابر عین الدین ترین ثنااللہ ندیم کاسی نوراللہ پٹھان مسرور موسی خیل جمعداد باغی روئیداد ملنگیار نے باچاخان مرکز کوئٹہ میں باچاخان کی 33ویں اوررہبر تحریک خان عبدالولی خان کی 15 ویں برسی اور ژوب میں شیخ محمد یارخان ہاس میں28جنوری جلسہ عام بارے تیاریوں کے سلسلے میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران کیا مقررین نے باچاخان اور خان عبدالولی خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس خطے میں انگریزوں کے خلاف عملی جدوجہد ہمارے اکابرین نے کی اور صف اول میں رہتے ہوئے پشتونوں کے اجتماعی قومی مفادات کے لئے بھرپور سیاسی جدوجہد کی باچاخان جدید پشتون نیشنلزم کے بانی ہیں جنہوں نے پشتونوں کو عدم تشدد کے عظیم انسانی فلسفے سے جوڑتے ہوئے بندوق سے نفرت اور کتاب سے دوستی کا درس دیا باچاخان ایک اصلاحی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا مظلوم کے حق کے لئے آواز اٹھائی اور ظالموں کے خلاف میدان عمل میں ڈٹ کرکھڑے رہے ان کے بعد خان عبدالولی خان نے جمہوری سیاسی اور پارلیمانی جدوجہد کے ذریعے پشتونوں سمیت تمام اکائیوں اور قومیتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی خان عبدالولی خان کو اس وقت کے حکمرانوں نے مراعات اورا قتدار کی بارہا پیش کش کی مگر خان عبدالولی خان نے اسے قبول نہیں کیا انہوں نے کہا کہ آج ہمیں باچاخان اور خان عبدالولی خان کے فکر و فلسفے اور جدوجہد سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ درپیش مسائل اور مشکلات سے نجات حاصل کرکے معاشرے کوا من اور استحکام دیا جاسکے ۔ مقررین نے کہا کہ 73سال گزرنے کے بعد بھی پشتونوں کوشہری تسلیم نہیں کیا جارہا جو بہت بڑا المیہ ہے آج اکیسویں صدی میں بھی پشتونوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں عوامی نیشنل پارٹی نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی مقررین نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے ایک پرامن مترقی اور جمہوری افغانستان پورے خطے کے مفاد میں ہے افغانستان میں امن مذاکرات وقت کی عین ضرورت ہے جس میں افغان حکومت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہوں تاکہ امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اس موقع باچاخان ، خان عبدالولی خان اور دیگرشہداکے درجات کی بلندی کے لئے دعاکی گئیں دریں اثنااے این پی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صوبائی قائدین فخرافغان باچاخان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی کے سلسلے میں 22جنوری کو ضلع پشین کے زیر اہتمام حرمزئی میں اجتماع جبکہ آج 21جنوری کو ژوب مینہ بازار میں 28جنوری جلسہ عام بارے ورکرز کنونشن میں شرکت کرینگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.