برطانیہ کی دو بڑی جماعتیں کنزرویٹوز اور لیبر پرو بریگزٹ اور پرو یورپی یونین میں تقسیم
لندن (امروز نیوز)برطانیہ کی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے 7 اراکین نے بریگزٹ کی وجہ سے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی ‘ کے مطابق ان اراکین نے اپنے بیان میں کہا کہ لیبر پارٹی اب ان پالیسیوں پر چل رہی ہے جو ہماری قومی سلامتی کو کمزور کرسکتی ہیں، ان ممالک کے بیانات کو تسلیم کر رہی ہے جو ہمارے ملک کے لیے خطرہ ہیں اور بریگزٹ کے چیلنج سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ان 7 اراکین نے لبرل ڈیموکریٹس نامی جماعت میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے دیگر جماعتوں کے اراکین کو برطانوی سیاست میں نئی جماعت کے قیام میں مدد کرنے پر اصرار کیا۔لیبر پارٹی کے اراکین کی جانب سے یہ اعلان پارٹی میں موجو سوشلسٹ اور سینٹرلسٹ کے درمیان جاری کشیدگی کے نتیجے میں آیا ہے، جو خود کو برطانیہ کے ملازمت پیشہ طبقے کے نمائندے کے طور پر دیکھتے ہیں۔یہ اعلان برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے قبل ایک بڑا سیاسی نقصان ہے جس کی وجہ سے ملک کی دو بڑی جماعتیں کنزرویٹوز اور لیبر پرو- بریگزٹ اور پرو – یورپی یونین میں تقسیم ہوگئی ہیں۔خیال رہے کہ لیبر پارٹی کے اکثر قانون ساز جیرمی کوربن کی قیادت سے ناخوش ہیں جنہوں نے 2015 میں پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی۔وہ جیرمی کوربن پر کنزرویٹو جماعت کی وزیر اعظم تھریسامے کے یورپی یونین چھوڑنے کے منصوبے پر کمزور اپوزیشن کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی پارٹی میں یہود مخالف خیالات کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہیں۔برطانیہ کی اپوزیشن جماعت سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے 7 اراکین لیبر پارٹی کے 256 قانون سازوں یا برطانوی پارلیمنٹ کے 650 قانون سازوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔تاہم یہ لیبر پارٹی کو 1981 کے بعد پہلا بڑا دھچکا ہے جب 4 سینئر اراکین نے علیحدگی اختیار کرکے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی بنائی تھی۔لوسیانا برجر نے اپنے 6 ساتھیوں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ’ لیبر پارٹی یہود مخالف ادارہ بن گیا تھا، میں غنڈہ گردی، تعصب کی ثقافت کو پیچھے چھوڑ رہی ہوں۔لیبر پارٹی کے رہنماؤں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ لوسیانا برجر جو کہ یہودی ہیں، انہیں شمال مغربی برطانیہ میں مقامی پارٹی کے کچھ اراکین کی جانب سے دھمکایا جاتا رہا ہے۔اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے پر برطانوی سیاست میں بڑا انتشار پیدا ہوجائے۔برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی جماعت میں بریگزٹ اور یورپی یونین کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی کا شکار ہے جبکہ لیبر پارٹی میں بھی ٹوٹ پھوٹ جاری ہے۔لیبر پارٹی کے اکثر اراکین بریگزٹ کی مخالفت کررہے ہیں جس میں 6 ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت ایک نئے ریفرنڈم کی جنگ لڑے تاکہ برطانیہ 28 قوموں کی تنظیم کا رکن رہ سکے۔تاہم جیرمی کوربن جو دہائیوں سے یورپی یونین پر تنقید کرتے رہے ہیں وہ ایسا کچھ بھی کرنے پر تیار نہیں، جس سے یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے کو مسترد کیے جانے کے طور پر دیکھا جاسکے۔لیبر پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے قانون ساز مائیک گیپز نے کہا کہ میں بہت برہم ہوں کہ پارٹی قیادت بریگزٹ کا ساتھ دے رہی ہے جس سے ہمارے ملک کو معاشی، سماجی اور سیاسی نقصان پہنچے گا۔پارلیمنٹ کے 7 اراکین نے کہا کہ وہ اپوزیشن جماعت سے علیحدگی کے بعد اب ہاؤس آف کامنز میں نو تشکیل کردہ آزاد گروپ کے تحت بیٹھیں گے۔اس موقع پر جیرمی کوربن نے کہا کہ وہ بہت مایوس ہوئے کہ ان کے پارلیمانی اراکین پارٹی کی پالیسیوں کے مطابق کام نہیں کرسکے جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا تھا۔