وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت صوبے کے ترقیاتی امور کے جائزہ
کوئٹہ(امروز نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت صوبے کے ترقیاتی امور کے جائزہ کے لئے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اہم نوعیت اور کثیر لاگت کے حامل ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لئے وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، چیف سیکریٹری بلوچستان اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹری کمیٹی میں شامل ہوں گے جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی وترقیات کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے، اجلاس میں ڈویژن کی سطح پر ترقیاتی منصوبوںکی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور رکرنے کے لئے ڈویژنل کمشنروں کی سربراہی میں بھی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے، اجلاس میں ایک ارب روپے کی لاگت سے زائد منصوبوں کے لئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے اس طریقہ کار کو مزید بہتر اور جامع بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اجلاس میں محکمہ تعلیم میں وزیراعلیٰ انیشیٹیو پروگرام کی پیشرفت کے جائزہ بھی لیا گیا اور اس ضمن میں ضلعی ایجوکیشن افسروں ، محکمہ مواصلات وتعمیرات کے ایکسیئن اور متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر پر مشتمل ٹیم کو پروگرام میں شامل اسکولوں کا دوبارہ معائنہ کرکے ان کی ضروریات کے مطابق پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں محکمہ تعلیم کو ہدایت کی گئی کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک ہائی اسکول کو ماڈل اسکول کا درجہ دینے میں طلباء کی تعداد کو بنیاد بنایا جائے، ان ماڈل ہائی اسکولوں کو بعدازاں ہائر سیکنڈری اسکول میں تبدیل کیا جائے گا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ نظام سے صوابدیدی اختیارات کو ختم کرنا ہوگا، جس سے سفارش، اقرباء پروری اور دیگر بہت سی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر فرد اپنا کام کرے، بدقسمتی سے جس فرد کا کام ہو اس سے کام نہیں لیا جاتا اور سفارش کی بنیاد پر غیرمتعلقہ فرد کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے جس سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ترقیاتی عمل بھی رک جاتا ہے، ہمیں اس رحجان کا خاتمہ کرنا ہوگا، اجلاس میں صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، نوابزدہ طارق مگسی، میر نصیب اللہ مری، میر محمد خان لہڑی، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر ، صحت،تعلیم اور مواصلات کے محکموں کے سیکریٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔