مادری زبانوں پر خاطر خواہ کام کرنے کی ضرورت ہے، لشکری رئیسانی
کوئٹہ(امروز ویب ڈیسک)براہوئی اکیڈمی پاکستان کے زیرا ہتمام کوئٹہ آفیسرز کلب میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے مناسبت سے منعقدہ ایک روزہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے نامور سیاسی وقبائلی رہنماءمعروف دانشور نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں قوموں کی پہنچان اور ان کی تہذیبی شناخت ان کی مادری زبان سے ہوتی ہے براہوئی اس خطے کی قدیم ترین زبانوں میں شمار ہوتی ہے اور پورے خطے میں رابطے کی زبان رہی ہے دوسری جانب دنیا کی یہ قدیم ترین عالمی ورثہ معدومی کی شدید خطرات سے دوچار ہے
جس سے سیاسی سرکاری، ادبی، سماجی، غرض ہر سطح پر بچانے کی اشد ضرورت ہے یہ بات انہوں نے 21فروری کو کوئٹہ آفیسرز کلب میں براہوئی اکیڈمی پاکستان کی جانب سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے بطور مہمان خاص خطاب کرتے ہوئے کہی پروگرام کی صدارت براہوئی اکیڈمی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نامور براٹ کاسٹر سلطان احمد شاہوانی کررہے تھے جبکہ دیگر اعزازی مہمانوں میں ،سابق وزیراعلی بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ،سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی ،براہوئی اکیڈمی کے سابق سیکرٹری جنرل پروفیسر سوسن براہوئی ،براہوئی ادبی سوسائٹی کے چیئرمین عبدالقیوم بیدار، نامور ادیب صحافی ٹکری سیف اللہ سیف سرپرہ اور دیگر شامل تھے اس موقع پر نوابزادہ حاجی لشکری نے کہا کہ مادری زبان کا تحفظ ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے
انہوں نے کہا کہ زبان اللہ پاک کی طرف سے ایک ایسا سماجی عطیہ ہے جو زمانی کے ساتھ ساتھ ایک نسل سے دوسرے نسل کو ملتا رہتا ہے اور مادری زبان کو ثقافتی ورثہ کی بقاءاور اس کے فرخ کا موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے اسی لئے آج دنیا بھر میں مادری زبانوں میں بنیادی تعلیم ایک عالمی نعرہ بن چکا ہے اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبانیں دنیا بھر میں ثقافتی وتاریخی اور سماجی روایات کے بارے میں بہتر آگاہی پیدا کرتی ہے آج ہمیں مادری زبانوں کو فروغ دینے کیلئے ہر سطح پر موثر اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ مادری زبان نہ صرف جذبات کے اظہار کا موثر ذریعہ ہے بلکہ اقوام کی شناخت بھی اسی زبان سے ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ آج موجودہ عالمگیریت کی فضا میں دنیا کے متعدد زبانوں کو جو خطرات درپیش ہیں ان خطرات سے بچنے کیلئے مادری زبانوں پر خاطر خواہ کام کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ دنیا میں مادری زبانوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے اس موقع پر نیشنل پارٹی کے رہنماءسینیٹر کبیر احمد محمد شہی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سائنس وٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا میں مادری زبانوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے
انہوں نے کہا کہ خطے کی تمام ریجنل زبانوں کو قومی زبان قرار دینے اور ان کی سرپرستی کیلئے حکومت کو خاطر خواہ اقدام کرنا چاہیے اس لئے کسی بھی زبان اور ثقافت ختم ہونے کا مقصد خطرے کی تاریخ وتہذیب کا اختتام اور موت سمجھا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں یہ واضح کیا گیا کہ مادری زبانوں کا نہ صرف تحفظ کیا جائے بلکہ ان کوبہتر طور پر پلنے پولنے کا مواقع پر مہیا کیا جائیں انہوں نے کہا کہ براہوئی زبان اور براہوئی تہذیب وثقافت کی قدامت مسلمہ ہے جو ہزاروں سالوں سے اس درتی کے لوگوں کے درمیان ابلاغ کے ساتھ محبت اخوت کے رنگ بکھیر رہی ہے
انہوں نے کہا کہ براہوئی سمیت خطے کے تمام مادری زبانوں کی وجود کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان میںبنیادی تعلیم کو عام کیا جائے انہوں نے کہا کہ مادری زبانوں کی ہرلفظ اورجملے میں قومی روایات تہذیب وتمدن ذہنی تجربے سموئے ہوئے ہوتے ہیں اسی لئے انہیں ہمارے مادری اور ثقافتی ورثے کی بقاءاور اس کے فروغ کا سب سے موثر آلہ سمجھا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اگر کسی قوم کی زبان مٹ جائے تو اس کے ساتھ اس قوم کی روایات اور تہذیب اس کی تاریخی قومیت سب کچھ مٹ جائے گی اس لئے تمام زبانوں کے بولنے والے آج لسانی تعصب کے بغیر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر وہ موثر مہم جوہی شروع کرے
جن سے ان کی زبان ،تہذیب وتمدن اور تاریخ محفوظ ہو اس موقع پر سلطان احمد شاہوانی، پروفیسر سوسن براہوئی ،عبدالقیوم بیدار ،ٹکری سیف اللہ سیف سرپرہ نور احمد پرکانی، پروفیسر حسین بخش ساجد ،زاہد براہوئی اور صحافی سکندر براہوئی نے بھی خطاب کیا آخر میں پروگرام کے مہمان خاص نوابزادہ حاجی لشکرئی خان رئیسانی نے براہوئی اکیڈمی کی جانب سے بہترین ادبی کارکردگی پر متعدد ادیب وشعراءمیں شیلڈ تقسیم کئے۔