مفتی تقی عثمانی کا طالبان کو خط ، لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت دینے پر زور

0 61

کراچی : مذہبی سکالر مفتی تقی عثمانی نے سربراہ طالبان ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ ہم مسلمانان پاکستان دعاگو ہیں کہ جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ حضرات کو دنیا بھر کی افواج کے مقابلے میں فتح مبین عطا فرمائی ، اسی طرح افغانستان کو ایک مثالی اسلامی مملکت بنانے کی توفیق عطا فرمائیں ، اور اس راستے کی تمام رکاوٹوں کو دور فرمائیں ۔ آمین

مفتی تقی عثمانی نے اپنے خط میں لکھا کہ اس سے قبل آپ کے کئی گرامی نامے اس ناکارہ بندے کے پاس آئے ، میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور اپنی بساط کی حد تک اماراتِ اسلامیہ کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتا ہوں ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک اہم مسئلہ لڑکیوں کی تعلیم ہے جس کو دشمنوں نے اماراتِ اسلامیہ کے خلاف پروپیگنڈے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ۔ الحمد للہ تعالیٰ اماراتِ اسلامیہ نےاب تک جو فراخ دلانہ اور حکیمانہ اقدامات کیے ہیں ہم ان کی قدر کرتے ہیں ، لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کا مناسب انتظام کرنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ اول تو اس لئے کہ خواتین ملک کی اہم ضرورت ہے ، تاکہ معاشرے سے مردوں کے اختلافات کا فتنہ ختم کیا جا سکے ، دوسرے یہ بے بنیاد تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام یا امارات اسلامی خواتین کے خلاف ہے ۔ البتہ ان کی تعلیم کا ایسا انتظام کرنا ضروری ہے جو لڑکیوں کی تعلیم سے الگ ہو ۔

مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ سنا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی الگ الگ درسگاہوں کے لئے جگہ دستایاب نہیں ہے ۔ لیکن اس کا یہ حل نکالا جاسکتا ہے کہ ایک ہی امارات میں ایک وقت لڑکوں کی تعلیم ہو اور دوسرے وقت لڑکیوں کی تعلیم ہو ، یا ایک ہی عمارت میں ایک حصے میں لڑکوں کی اور دوسرے حصے میں لڑکوں کی تعلیم کا انتظام ہو ، اس طرح کی تدابیر باہمی مشورے سے ان شاء اللہ تعالیٰ باآسانی نکالی جاسکتی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.