ٹیکساس: پاکستانی نژاد شخص نے اہلیہ، بیٹی اور ساس کو قتل کرکے خودکشی کرلی

0 105

پولیس نے بتایا ہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس کے چھوٹے قصبے میں ایک پاکستانی نژاد امریکی شخص نے اپنی بیوی، 4 سالہ بیٹی اور اپنی ساس کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد خود کو گولی مارلی۔

مقامی پولیس نے اب تک ان کے نام نہیں بتائے ہیں لیکن ان کی نماز جنازہ کا انتظام کرنے والے اسلامک سوسائٹی آف گریٹر ہوسٹن (آئی ایس جی ایچ) نے متاثرین کی شناخت سعدیہ منظور، ان کی صاحبزادی خدیجہ محمد اور والدہ عنایت بی بی کے نام سے کی ہے۔

تاہم مبینہ قاتل کی شناخت صرف ان کے آخری نام محمد سے ہوئی ہے، انہیں والر میں آئی ایس جی ایچ مسلم قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

آئی ایس جی ایچ نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ برائے مہربانی سعدیہ بہن، ان کی صاحبزادی اور والدہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ان کے والد اور دیگر لواحقین کو اس بڑے نقصان پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یہ خاندان ہوسٹن کے مضافات اسپرنگ، ٹیکساس میں رہتا تھا جو کہ ہیرس کاؤنٹی پولیس کے دائرہ نگرانی میں آتا ہے۔

ہیرس کاؤنٹی کے شیرف (چیف) ایڈ کونزالیز نے 19 مئی کو ٹوئٹ میں بتایا کہ بظاہر یہ سامنے آیا ہے کہ ایک خاوند جو اپنی بیوی کے ساتھ نہیں رہتا تھا، صبح اپنی اہلیہ کے اپارٹمنٹ میں آیا، اس نے اپنی بیوی، 4 سالہ بیٹی اور اپنی ساس کو قتل کرنے کے بعد خود کو گولی مارلی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چاروں موقع پر ہی انتقال کر گئے تھے جبکہ جائے وقوع سے پستول برآمد کرلی گئی ہے، میاں بیوی گزشتہ چند ماہ سے طلاق کے مراحل سے گزر رہے تھے۔

اگلی ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اپارٹمنٹ کے اندر 4 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، ابتدائی معلومات میں یہ قتل اور خودکشی کا کیس لگتا ہے، کمپلیکس کے اندر اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔

مقامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مبینہ شوٹر اور متاثرین کا تعلق پاکستان سے تھا۔

20 مئی کو شیرف کی ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے پڑوسی ٹریسا پین نے کہا کہ خدا بھلا کرے، یہ خوفناک ہے، ہم خاتون، اس کی بچی اور والدہ کو بچانے میں ناکام رہے، ٹیکساس کی عزیز ریاست! ہمیں بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ سعدیہ منظور قریبی اسلامی اسکول کی استاد تھیں جہاں کے ساتھی ملازمین نے بتایا کہ انہیں فکر ہوئی جب وہ جمعرات کو اسکول نہیں آئیں کیونکہ عام طور پر وہ وقت کی پابندی کرتی تھیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.