ایرانی سپریم لیڈرجوہری معاہدے کی حمایت کریں گے؟برطانوی انٹیلی جنس چیف کااستفسار
اگر ہم کسی معاہدہ تک پہنچ سکتے ہیں تو شاید یہ ایرانی جوہری پروگرام کو محدود رنے کا بہترین ذریعہ ہوسکتا ،خطاب
لندن برطانیہ کے انٹیلی جنس چیف نے اس شک کا اظہارکیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای میراتھن مذاکرات کے باوجود 2015 میں طے شدہ جوہری معاہدے میں اپنے ملک کی واپسی کی حمایت کریں گے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی سراغرساں ادارے ایم آئی 6 کے سربراہ رچرڈ مور نے ایسپین سکیورٹی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کسی معاہدہ تک پہنچ سکتے ہیں تو شاید یہ ایرانی جوہری پروگرام کو محدود رنے کا بہترین ذریعہ ہوسکتا ہے لیکن مجھے یقین نہیں کہ ہم وہاں تک پہنچیں گے۔
انھوں نے امریکی ریاست کولوراڈو میں منعقدہ کانفرنس میں کہا:میں نہیں سمجھتا کہ ایران کے سپریم لیڈرکوئی معاہدہ طے کرنا چاہتے ہیں مگر ایرانی مذاکرات ختم بھی نہیں کرنا چاہیں گے تاکہ وہ کوئی سودے بازی کرسکیں۔مورکا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ معاہدہ بالکل میزپرہے۔یورپی طاقتیں اورامریکی انتظامیہ اس بارے میں بہت واضح ہیں۔
میں نہیں سمجھتا کہ اس معاملے پر چینی اور روسی اسے روک دیں گے۔البتہ میں نہیں سمجھتا کہ ایرانی ایسا چاہتے ہیں۔ان کی ملک سے باہر کسی عوامی تقریب میں یہ پہلی چہرہ نمائی ہے۔