مسلم لیگ ن کے مزید پانچ ایم پی ایز کیخلاف لڑائی کرنے کا مقدمہ درج
اسپيکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے موقع پر ہونے والے جھگڑے کا مقدمہ مسلم لیگ ن کے پانچ ایم پی ایز کیخلاف مقدمہ درج کرليا گيا۔
اسپيکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے موقع پر ہونے والے جھگڑے کا مقدمہ مسلم لیگ ن کے پانچ ایم پی ایز کیخلاف مقدمہ درج کرليا گيا ہے۔
مقدمہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں ایم پی اے نوابزادہ وسیم خان بادوزئی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس ميں رانا مشہود، مرزاجاوید، سیف الملوک کھوکھر، مياں عبدالروف اور خاتون رکن رخسانہ کوثر کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے پانچ ایم پی ایز رانا مشہود، مرزاجاوید، سیف اللہ کھوکھر، میاں عبدالروف اور خاتون رکن رخسانہ کوثر نے اسپیکر کے الیکشن میں اسمبلی کی کارروائی متاثر کی۔
ایف آئی آر کے مطابق 29 جولائی کو اسپیکر کے انتخاب کے دوران ليگی اراکين نے زبردستی بيلٹ پيپر بک چھين لی، جس کی وجہ سے انتخابی عمل کئی منٹ تک معطل رہا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بيلٹ پيپر بک خاتون رکن رخسانہ کوثر کے قبضہ سے ملی، بيلٹ بک کی جانچ پڑتال کی گئی تو چار بیلٹ پیپرز پھٹے ہوئے تھے۔
لیگی رہنماؤں کے خلاف عملے پر حملہ، انتخابی سامان چھیننے اور انتخابی عمل میں رکاوٹ پر پانچ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
اسپییکرپنجاب اسمبلی کے انتخاب پر ن لیگ کی درخواست
30 جولائی کو ن لیگ کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ اسپیکر پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما سبطین خان کے خلاف درخواست دائر کی گئی۔
درخواست میں سبطین خان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتا ہے، اسپیکر کے الیکشن میں بیلٹ پیپرز پر سیریل نمبر درج کرنا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔