خوراک بحران سے نمٹنے کے لیے 2.9 ارب ڈالرکااعلان

0 92

خوراک بحران سے نمٹنے کے لیے 2.9 ارب ڈالرکااعلان

واشنگٹن امریکی صدر جو بائیڈن نے عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے 2.9 ارب ڈالر کی نئی امداد کا اعلان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہائوس کے مطابق یہ نئے فنڈز یوکرین میں روس کی جنگ کی وجہ سے خوراک، کھادوں اورتوانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں بھوک کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات سے نمٹنے کے لیے مختص کیے جارہے ہیں۔بائیڈن نے روس پرالزام عاید کیا کہ وہ خوراک کی قلت کا ذمہ دار اتحادیوں کی پابندیوں کو قرار دینے کی کوشش کررہا ہے حالانکہ اس کے بجائے صدر ولادی میرپوتین کے فوجی اقدامات اس کے ذمہ دار ہیں۔انھوں نے کہاکہ روس یوکرین کے خلاف جارحیت کے ردعمل میں دنیامیں بہت سے ممالک کی طرف سے عایدکردہ پابندیوں پرخوراک کے بحران کا الزام لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ روس کی جنگ ہے جو غذائی عدم تحفظ کو ابترکررہی ہے اور صرف روس ہی اسے ختم کرسکتا ہے۔وائٹ ہاس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی ترقی کے ادارے کی جانب سے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد پر 2 ارب ڈالر خرچ کرے گا جس میں خوراک کی امداد، صحت کی دیکھ بھال اور کمزور ممالک میں پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لیے رقم بھی شامل ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ 78 کروڑڈالر سے زیادہ رقم ترقیاتی فنڈز کے لیے مختص کی جائے گی اس سے کسانوں کو کاشت کاری کے پائیدارطریقوں کی تیاری اور دیگر منصوبوں کے ذریعے خوراک کی رسد کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ امریکا عالمی خوراک وزراعت تحفظ پروگرام میں 15 کروڑ ڈالرکا عطیہ بھی دے رہا ہے۔

یہ نئی رقم 6.9 ارب ڈالر کے فنڈ میں سب سے زیادہ ہے جس کا مقصد دنیا میں غذائی تحفظ کے بحران کوحل کرنا ہے۔اس فنڈ میں امریکا نے پہلے ہی رواں سال میں رقم دینے کاوعدہ کررکھا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.