پانی کی کمی سے صوبے کی زراعت اور معیشت پر گہری منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، مطہر نیاز رانا

0 125

کوئٹہ(امروز ویب ڈیسک)چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا اور چیف سیکرٹری سندھ ممتاز علی شاہ نے بلوچستان میں پانی کی کمی کے مسئلہ پر وڈیو لنک میٹنگ کی۔ ملاقات میں بلوچستان اورسندھ کا پانی کے مسلہ باہمی مشاورت اور باہمی گفت و شنید سے حل کرنے پر اتفاق ہوا اور یہ طے پا یا کہ صوبے ایک دوسرے کے پانی کے حق اور مفاد کا احترام کرینگے۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کو پانی کی کمی سے صوبے کی زراعت اور معیشت گہری منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں

اور صوبے کے کسان زمیندار اس صورتحال سے بہت پریشان ہیں کیونکہ صوبے کے آبادی کا بیشتر حصے کا دارومدار زراعت سے وابستہ ہے اور پانی کی کمی سےکسان اور پریشانی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صرف ایک ہی زرعی بیلٹ سندھ سے ملحقہ نصیرآباد ڈویژن ہے، جہاں زراعت کے لیے سندھ سے آنے والے پانی پر انحصار کیا جاتا ہے۔ تاہم سندھ کی جانب سے بلوچستان کو اس کے حصے کا پانی میں کمی سے کاشتکاروں کو غیر معمولی نقصان پہنچ رہا ہے، حکومت سندھ بلوچستان کو اس کے حصہ کا مکمل پانی کی فراہمی کو یقینی بناے تاکہ زمینداروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ملاقات میں چیف سیکرٹری سندھ نے یقین دلایا کہ آج سے بلو چستان کو اس کا پانی کا پورا حصہ مل جائیگا

اور دونوں صوبے جوائنٹ مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دینگے جو روزانہ کی بنیاد پر پانی کی بہا کی نگرانی کریں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری آبپاشی بلوچستان عبدالفتح بھنگر، سیکرٹری آبپاشی سندھ و دیگر بھی موجود تھے۔چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا نے کہاہے کہ بلوچستان کے زمینداروں کے مسائل کاادراک ہے ،کیسکو حکام فوری طورپر زرعی ٹیوب ویلز کی بجلی بحال کریں ،سیب کی ہمسایہ ممالک سے اسمگلنگ پر پابندی اور کھاد کی قلت کے خاتمے کیلئے متعلقہ حکام سے بات چیت کی جائےگی ، کھاد بلوچستان لانے میں درپیش مشکلات اورچیک پوسٹوں پر حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کیاجائے گاتاکہ بلوچستان کے زمینداروں کو مقررکردہ قیمتوں پر کھاد میسرآسکیںان خیالات کااظہار انہوں نے زمیندار ایکشن کمیٹی کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی سربراہی زمیندار ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی کررہے تھے جبکہ حاجی ولی محمدرئیسانی ،کاظم خان اچکزئی ،عبدالقہار آغا، حاجی خالق داد ،حاجی افضل دشت، حاجی جبار کاکڑ،ٹکری پار الدین ،ٹکری شفقت لانگو ودیگر بھی وفد میں شامل تھے

۔زمیندار ایکشن کمیٹی نے چیف سیکرٹری کو محکمہ کیسکو کی جانب سے سبسڈی کی عدم ادائےگی پر زرعی ٹیوب ویلز کی بجلی کی بندش اور یوریا کھاد اور سیب کی اسمگلنگ سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیااور بتایاکہ کیسکو کی جانب سے سبسڈی کی رقم جو کہ وفاق اور صوبائی حکومت ادا کررہی ہے کی عدم ادائےگی پر بلوچستان بھر کے زرعی ٹیوب ویلز کی بجلی کادورانیہ کم کردیاہے سبسڈی کی رقم نہ ملنے پر کیسکو نے زمینداروں کو مشکلات سے دوچار کردیاہے اس دوران چیف سیکرٹری کی جانب سے کیسکو حکام کو طلب کیاگیا ملاقات میں کیسکو حکام نے یقین دہانی کرائی کہ وہ صوبے کے تمام زرعی فیڈرز کی بجلی بحال کرینگے

،زمیندار ایکشن کمیٹی نے چیف سیکرٹری کو بلوچستان میں کھاد اور سیب کی غیرقانونی اسمگلنگ سے متعلق آگاہ کیا جس پر چیف سیکرٹری بلوچستان نے اس سلسلے میں متعلقہ وفاقی محکموں سے رابطہ کرکے معاملہ اٹھالیا ،ملاقات میں طے پایا کہ چیف سیکرٹری کے ساتھ کھاد اور سیب کی اسمگلنگ سے متعلق دوبارہ ملاقات ہوگی جس میں دونوں مسئلوں پر تبادلہ خیال کیاجائے گااور پیشرفت سے متعلق زمینداروں کو آگاہ کیاجائے گا،چیف سیکرٹری نے زمینداروں کو یقین دہانی کرائی کہ سیب کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیںگے

جبکہ کھاد بلوچستان لانے میں درپیش مشکلات وچیک پوسٹوں پر حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کیاجائے گاتاکہ بلوچستان کے زمینداروں کو مقررکردہ قیمتوں پر کھاد میسرآسکیں ،زمیندار ایکشن کمیٹی نے چیف سیکرٹری بلوچستان کے معاملات پر فوری نوٹس لینے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات خوش آئند ہے اس وقت صوبے بھر میں کھاد کی قلت کاسامنا تھا چیف سیکرٹری کے فوری ایکشن سے اب مسائل حل ہونگے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.