بھارتی ریاست گجرات میں ایک بار پھر مسلمانوں کے قتل عام کی تیاریاں

0 140

بھارتی ریاست گجرات میں ریاستی انتخابات قریب آرہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مودی کے ساتھی قصائیوں نے ایک بار پھر مسلمانوں کے قتل عام کی تیاریاں کرلی ہیں۔

بھارت میں گزشتہ 25 برسوں سے ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کا راج ہے، یہ راج بی جے پی نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرکے قائم کیا ہے۔

2002 کے گجرات فسادات کے وقت ریاست کا سربراہ (وزیر اعلٰی) کوئی اور نہیں آج کا وزیر اعظم مودی ہی تھا۔ مودی نے اپنی مقبولیت کے لئے جو فارمولے گجرات میں بنائے وہی اب بھارت کے دیگر علاقوں میں اپنائے جاتے ہیں۔

گجرات میں رواں برس ریاستی انتخابات ہونے ہیں اور اس سے پہلے ہی صورت حال کشیدہ بنائی جارہی ہے جس کی تازہ مثال مشہور زمانہ بلقیس بانو زیادتی کیس کے 11 مجرموں کی رہائی ہے۔

2002 میں بلقیس بانو کو اکیس سال کی عمر میں مسلم کش فسادات کے دوران اجتماعی زیادتہ کا نشانہ بنایا گیا اس وقت وہ پانچ ماہ کی حاملہ بھی تھیں، اس کے ساتھ ہی ان کے سامنے ان کے خاندان کے 7 افراد کا بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔

بلقیس بانو زیادتی کیس میں 11 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جسے ملک کے 75ویں جشن آزادی کے موقع پر ریاستی حکومت نے معاف کرکے رہا کردیا۔

مجرموں کی رہائی کے بعد علاقے کے کئی مسلمان خاندان اپنے آبائی گھر چھوڑ کر رحیم آباد ریلیف کالونی میں پناہ لی ہے۔ اس کیمپ میں وہ مسلمان آباد ہیں جو کئی برسوں سے فسادات کی زد میں آنے کے بعد یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اسی کیمپ میں بلقیس بانو بھی 2017 سے رہ رہی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.