ہمیں ہرگز اندازہ نہیں تھا مستونگ میں ہمیں معیاری ہسپتال دیکھنے کو ملے گا، نواب رئیسانی، لشکری رئیسانی

0 85

محدود وسائل میں رہ کر صحت کے مختلف شعبوں کا ہسپتال ہذا میں مکمل فعال ہونا دور جدید کے تقاضوں کے عین مطابق علاج معالجہ کرنا انتہائی تعریف کے قابل ہے ، میڈیا سے گفتگو

مستونگ(امروز ویب ڈیسک)رکن صوبائی اسمبلی و چیف آف سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے بلوچستان یونیورسٹی سب کیمپس مستونگ اور شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ کا دورہ کیا۔اس موقع پر ہمراہ سی ای او Progressive Education Network (PED) ڈاکٹر محمد نجیب، سابقہ ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان چیئرمین تعلیمی فاو¿نڈیشن پاکستان ظفر قادر بھی تھے اس موقع پر ہسپتال کے ڈپٹی سی او ڈاکٹر داد محمد خواجہ خیل، آر ایم او جنرل ڈاکٹر خلیل احمد ترین نے مہمانوں کا استقبال کیا،

ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا اور ہسپتال کی سالانہ کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی،انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہسپتال کی موجودہ کارکردگی کو سراہا اور ہسپتال کی مینجمنٹ اور بہترین کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آنے سے قبل ہمیں ہرگز یہ اندازہ نہیں تھا کہ صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ہمیں اس قسم کا معیاری ہسپتال دیکھنے کو ملے گا محدود وسائل کے اندر رہ کر صحت کے مختلف شعبوں کا ہسپتال ھذا میں مکمل فعال ہونا اور دور جدید کے تقاضوں کے عین مطابق علاج معالجہ کرنا انتہائی تعریف کے قابل ہے ضلع مستونگ اور قریبی اضلاع کی آبادی اور اسپتال کا کوئٹہ کراچی جیسے اہم شاہراہ پر واقع ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے

کہ ہسپتا ل کے شعبہ ایمرجنسی کی توسیع کرائی جائے اور ہسپتال میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی ایک الگ عمارت ہونی چاہیے۔انھوں نے کہاکہ شہید نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال میں نرسنگ ٹرینگ کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جائینگے محدود وسائل کے باوجود ہسپتال کی موجودہ کارکردگی انتہائی قابل تعریف ہے۔ اور شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل اسپتال مستونگ صوبے کے دیگر اسپتالوں کے لیے رول ماڈل بن چکا ہے۔سی ای او Progressive Education Network (PED) ڈاکٹر محمد نجیب میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ وہ بلوچستان میں 100سرکاری سکولوں میں ایک پروجیکٹ شروع کررہےہیں

پہلے مرحلےکے پروجیکٹ میں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتربنانے کیلئے ہر ممکن تعاون کرینگے تاکہ اپنے مستقبل کے معماروں کو اعلی تعلیم کے زیور سے آرائستہ کرسکے تاکہ وہ ملک وقوم کا بہتر خدمت کرسکےانھوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیکہ بلوچستان وہ بند ادکولز بھی ہمارے حوالے کیاجائے ہم انہیں فنکشنل کرکے چلائینگے اور ہم چاہتے ہیں

کہ وہ بلوچستان یونیورسٹی مستونگ کیمپس کی ڈگری کو بین القوامی سطح کی ڈگری بنائے تاکہ ہمارے نوجوان اعلی تعلیم کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد یورپ و دیگر ممالک میں بھی ملازمت حاصل کرتےہوئے روزگار حاصل کرسکے۔انھوں نے کہاکہ اس حوالے سے رواں سال بین القوامی اعلی تعلیمی ادارے سے معائیدہ بھی کیاجائے گا۔

لشکری رئیسانی">
Leave A Reply

Your email address will not be published.