پسماندگی غربت وجہالت کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی
کوئٹہ(امروز نیوز) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی غربت وجہالت کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی اورمعیاری تعلیمی اداروں کا نہ ہونا ہے رابطہ عوام مہم کے دوران تعلیمی مسائل سمیت صوبے کے سلگتے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں ۔معیاری تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کے ہزاروں طلباءہرسال معیاری تعلیم کے حصول کیلئے بیرون صوبہ کا رُخ کر لیتے ہیں سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے افرادکی تنخواہیں و مراعات تو بہت ملتے ہیں مگر سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیمی زبوں حالی کی وجہ سے عوام نجی تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں حکومت تعلیمی نظام میں بہتری لے آئیں ۔صوبے میں معیاری تعلیمی اداروں کا جال بچادیں اور سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری پر خاص توجہ دیں ۔عوام تعلیمی معاشی ترقی کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ تعلیمی بہتری کیلئے گھوسٹ سکولز وگھوسٹ ٹیچرزکو ختم کریں ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے سرکاری اسکولوں کی حالت ناگفتہ بہ نظر آتی ہے۔ ہزاروں سکول ایسے ہیں جہاں بچوں کے لیے واش رومز نہیں، بیٹھنے کے لیے کرسیاں نہیں، اسکولوں کی چار دیواری اور کمرے تک نہیں۔ آئے روز ان سکولوں کی حالت زار بارے تشویشناک رپورٹس میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ جب تک ان اسکولوں پر خصوصی توجہ نہیں دی جائے گی، ان کی حالت میں بہتری نہیں لائی جاتی تب تک داخلہ مہمات اور اس قسم کی دیگر سرگرمیاں بے سود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں سے بد ظن افراد اپنے بچوں کوپرائیویٹ اسکولوںمیں داخل کروانے کی سکت نہیں رکھتے۔ مہنگائی ، بے روزگاری اور معاشی بد حالی کے باعث لوگوں کے لیے جسم و روح کے ساتھ رشتہ قائم رکھناجہاں مشکل ہوگیا ہے وہاں ان کے لیے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ صوبے میں ہائی اسکولز کی کمی، غیر معیاری تعلیم، ناقص امتحانی نظام و نتائج اورمعاشی و معاشرتی مسائل کے باعث بڑی تعداد میں بچے پرائمری تعلیم کے بعد سرکاری اسکول چھوڑ جاتے ہیں۔بدقسمتی سے بلوچستان میں آج بھی بہت بڑی تعداد میں بچے اسکول نہیں جاپاتے جو لمحہ فکریہ ہے تعلیم کو کاروبار بنانے والے تعلیم کو عام وخاص تک پہنچانے کا ارادہ کریں تاکہ ان کے رزق وعمر میں برکت اور سکون واطمینان اور دنیا وآخرت کی کامیابی میسر ہو