ہم چاہتے ہیں بلوچستان کی حکومت اپنے پاو¿ں پر کھڑی ہو،جسٹس جمال مندوخیل
کوئٹہ(امروز نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ نے سیندک معاہدہ کیس میں ہدایت کی ہے کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے مائننگ کے طلباءکو اسکالرشپس پر بھجوایا جائے ،تفصیلات کے مطابق پیر کو بلوچستان ہائیکورٹ میں سیندک پروجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی، درخواست گزار ثناءبلوچ کے وکیل نوید بلوچ ایڈوکیٹ، سینئر صحافی اسد کھرلم، ایم ڈی سیندک پروجیکٹ، ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان ارباب طاہر کاسی، چینی کمپنی کے وکیل کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش،درخواست گزار ثناءبلوچ کے وکیل نے ثناءبلوچ کی ذاتی وجوہات کی بناءپر عدالت میں پیش نہ ہونے کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کر لیا ، دوران سماعت اسد کھرل اور جسٹس جمال مندوخیل کے درمیان مکالمہ ہوا جس میں سنےئر صحافی اسد کھرل نے عدالت کو بتا یا کہ سےندک لیز کے معاہدے کے تحت اسکول کالجز اور یونیورسٹی بنانی تھی جسٹس جمال مندوخیل نے جواب دیا کہ یہ سب اس صورت ممکن ہوسکتا ہے اگر انہیں کام کرنے دیا جائے، اسد کھرل بلوچستان ننگے پاو¿ں اور ننگے سر ہے، صحافی اسد کھرل نے کہا کہ یہ بتائیں سارے منصوبے سے بلوچستان کو کیا ملا ہے،منصوبے سے بلوچستان کی حکومت کو کچھ ملا ہے نہ ہی عوام کو جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں بلوچستان کی حکومت اپنے پاو¿ں پر کھڑی ہو،بات کرنے کا حق سب کو ہے فیصلہ ہم سب کو سن کریں گے، جسٹس جمال مندوخیل نے صحافی اسد کھرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ پنجاب سے آکر بلوچستان کا مقدمہ لڑرہے ہیں،اسد کھرل نے کہا کہ جس شخص کا مطلوبہ تجربہ پورا نہیں تھا اسے سیندک پروجیکٹ کا ایم ڈی لگادیا گیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئےے کہ اخبار کی خبر ہے کہ بلوچستان کی اسکالرشپس پر کوئی جاتا ہی نہیں، انہوں نے ہدایت کی کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈونمٹ فنڈ کے ذریعے مائننگ کے طلباءکو اسکالرشپس پر بھجوائیں، جس کے بعد کیس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی کردی گئی