منصوبے مقررہ وقت میں مکمل ہونگے ،وزیراعلیٰ جام کمال خان

0 216

کو ئٹہ (امروز نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ہے کہ ماضی میں تمام فیصلے بند کمروں میں چند افراد کی موجودگی میں ہوتے تھے اب ایسا نہیں ہوگا، وفاقی و صوبائی حکومتیں بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو شفاف ، قابل احتساب اور دیر پا بنا رہی ہم صرف تختی لگانے تک کے منصوبے نہیں کریں گے بلکہ تمام منصوبوں کا نہ صرف افتتاح ہوگا بلکہ منصوبے مقررہ وقت میں مکمل بھی ہونگے ،ماضی میں ہم نے مشہور سی پیک کی مغربی راہداری کی تختیاں لگتی دیکھیںاو ر بڑے بڑے اعلانات ہوئے لیکن بدقسمتی سے وفاق یا بیرونی سرمایہ کاری میں سی پیک کی مغربی راہداری کا نام تک نہیں ، وزیراعظم کوئٹہ اور گوادر کے دوروں کے موقع پر بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کریں گے ، یہ بات انہوں نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات خسرو بختیار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر صوبائی وزراءمیر ظہور بلیدی ، انجےنئر زمرک خان اچکزئی سمیت دےگر بھی انکے ہمراہ بھی تھے، وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومت بلوچستان میں نہ صرف ترقیاتی عمل کو شفاف اور قابل احتساب بنا رہی ہیں بلکہ ایک منظم طریقہ کار بنا رہی ہیں کہ آنے والے دس سالوں میں لوگ کس طرح مستفید ہوںہم صرف تختی لگانے تک کے منصوبے نہیں کریں گے ،تمام منصوبوں کا نہ صرف افتتاح ہوگا بلکہ منصوبے مقررہ وقت میں مکمل بھی ہونگے ،انہوں نے کہا کہ پچھلے دو ماہ سے صوبائی اور وفاقی حکومت بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں جس میں بلوچستان کی پی ایس ڈی پی اور وفا قی پی ایس ڈی پی میں منصوبوں کا با غور جائزہ لیا ہے ماضی میں صوبائی اور بلخصوص وفاقی پی ایس ڈی پی میں بہت سے اعلانات اورصوبے کی محرومی کو ختم کرنے کی بات کی گئی ،پچھلے پانچ چھ سال یا اس سے پہلے بھی یہی بات سنتے آئے مگر عملی طور پر ان منصوبوں میں سے بہت کم پر عملدآمد ہوا ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم نے سی پیک کی مشہور مغربی راہداری کی تختیاں لگتی ہوئی دیکھیںاو ر بڑے بڑے اعلانات اور دورے دےکھے ،ہمیںیہ باور کروایا گیا کہ مغر بی روٹ موجود ہے لیکن بدقسمتی سے نئی حکومت آنے کے بعد اس مغربی روٹ کا وجود نہ ہی وفاق اور نہ ہی بیرونی سرمایہ کاری میں نظر آیا لیکن ہم نے اس پر بات چیت شروع کی ،بلخصوص وزیراعظم نے بھی اس حوالے سے ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی اور پی ایس ڈی پی کے حوالے سے معاملات پر بات چیت کی گذشتہ دہ ماہ کے دوران محکمہ توانائی ، این اےچ اے ، مواصلات ،زراعت سمیت دےگر متعلقہ حکام کوئٹہ آئے اور کئی کئی دن مشاورت کے بعد چےزوں میں بہتری لانے کے لئے حکمت عملی مرتب کی گئی ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں تمام فیصلے بند کمروں میں چند افراد کی موجودگی میں ہوتے تھے جن چند اضلاع ہی مستفید ہوتے تھے لیکن اب وفاقی اور صوبائی پی ایس ڈی پی میں صوبے کے ہر ضلع مستفید ہوتا نظر آئےگا ،یہ پی ایس ڈی پی چند اضلاع کے وزراء، وزیراعلیٰ کے اضلاع میں نہیں بلکہ ہر علاقے میں برابر طرےقے سے نظر آئےگا جو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ضلعے کو برابر ترقی کے مواقعے فراہم کرے ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے چھوٹی چیزوں کے برعکس بڑی چیزوں پر نظر رکھی ہے،پی ایس ڈی میں ان اسکیمات کو شامل ہونا چاہےے جو بڑے پےمانے پر عوام کو فائدہ پہنچائےں ،ڈیم ،روڈ ، ٹرانسمیشن لائن جےسے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی کا حصہ ہو نا چاہےے ،یہ نہیں ہونا چاہےے کہ یونین کونسل کی اسکیمات کو بھی پی ایس ڈی پی میں شامل کریں یہ اسکیمات بعد میں پی ایس ڈی پی میں ریفلیکٹ کر تی ہیں جن سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم آئند دنوں میں کوئٹہ اور گوادر کے دورے کریں گے جہاں وہ اہم اعلانات کریں گے

Leave A Reply

Your email address will not be published.