میانمار: فوجی بغاوت کے 4 مخالفین کو سزائے موت

0 146

میانمار کی فوجی حکومت نے نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کے قریبی ساتھی سمیت بغاوت مخالف چار کارکنوں کو پھانسی دے دی ہے جس پر ملک بڑے پیمانے پر مذمت اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

میانمار کے سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ چاروں افراد کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر پھانسی دی گئی، یہ اس ملک میں 1988 کے بعد کسی کو سزائے موت دینے کا پہلا واقعہ ہے۔

سزا پانے والوں میں سابق قانون ساز فیوزےیاتھا، مصنف کوجمی، میو آنگ اور آنگ تھورازا شامل ہیں جن پر دہشت گردی کی کارروائیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔

میانمار کی فوج نے گزشتہ سال فروری میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد ملک میں زبردست مظاہرے ہوئے جنہیں طاقت کا استعمال کرکے کچل دیا گیا۔

میانمار کی شیڈو نیشنل یونٹی گورنمنٹ (این یو جی) نے ان سزاوں کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ قاتل فوج کو ان کے ظلم کی سزا دی جائے۔

سرکاری خبر رساں ادارے گلوبل نیوز لائٹ آف میانمار نے کہا کہ چاروں افراد وحشیانہ اور غیر انسانی دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سازشیں کررہے تھے اور اس کیلئے ہدایات جاری کیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.