کورونا میں تیزی کے بعد بیجنگ میں بڑے پیمانے پر کووڈ ٹیسٹ کا آغاز

0 34

کورونا وائرس کے سخت لاک ڈاوؑن کے خوف سے چین کے عوام میں افرا تفری پھیلنا شروع ہو گئی ہے اور بیجنگ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے کیونکہ چینی دارالحکومت کے ایک بڑے وسطی ضلع میں لازمی قرار دی گئی کورونا ٹیسٹنگ کے لیے لوگوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

شائع خبر رساں ایجنسی اے ایف پی  کے مطابق چین اپنے سب سے بڑے شہر شنگھائی میں انفیکشن کی لہر پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے اور ہفتوں سے مکمل طور پر بند ہے لیکن اس کے باوجود پیر کو کورونا وائرس سے 51 اموات رپورٹ ہوئیں۔

شنگھائی نے کورونا وائرس کے باعث گھروں میں قید لوگوں کو تازہ کھانا فراہم کرنے میں جدوجہد کا سامنا ہے جبکہ کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کو غیر کووڈ طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، دوسری طرف دارالحکومت میں کورونا کے بڑھتے کیسز نے لاک ڈاوؑن کے خوف کو بڑھا دیا ہے۔

تاہم، بیجنگ کے سب سے زیادہ آبادی والے ضلع شیانگ میں رہنے والے اور کام کے سلسلے میں آنے والے لوگوں کی پیر سے وسیع پیمانے پر کووڈ ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا گیا ہے، اس علاقے میں سفارت خانے اور متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہیڈاکوارٹرز بھی موجود ہیں۔

مالز اور آفس کمپلیکس کے باہر قطاریں لگ گئیں ہیں کیونکہ لوگ حفاظتی لباس میں محکمہ صحت کے رضاکاروں کے ذریعے اپنے ٹیسٹ کرانے کا انتظار کر رہے تھے۔

شیانگ کے علاقے میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کام کرنے والے ایک نوجوان یو لیمنگ کا کہنا تھا کہ اگر ایک بھی کیس ظاہر ہوا تو یہ علاقہ متاثر ہوگا۔

بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کے احکامات، اور شہر میں ’سنگین‘ کووِڈ کی صورتحال کے انتباہات نے راتوں رات بیجنگ کی سپر مارکیٹوں میں ہنگامہ برپا کر دیا کیونکہ رہائشی ضروری اشیاء کو ذخیرہ کرنے کے لیے پہنچ گئے۔

پیر کو ٹیسٹ کرانے کے احکامات جاری ہونے کے بعد اتوار کی رات ہی کھانے پینے کی اشیا گروسری ایپلی کیشن پر فروخت ہوگئیں اور ایک پہر بعد اسٹاک کو بھر دیا گیا۔

بیجنگ کے محکمہ صحت کے حکام نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جمع سے شہر کے آدھے اضلاع میں 70 انفیکشن موجود ہیں اور متاثر افراد کے پھیلنے کا رقبہ وسیع ہو گیا ہے۔

حکام نے شہریوں سے کہا کہ وہ آنے والے پانچ دنوں تک شہر سے باہر نہ جائیں اور نہ ہی اجتماعات میں شامل ہوں۔

فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق دارالحکومت کے ہوائی اڈوں پر پیر کو شیڈول کی گئی 40 فیصد پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

31 سالہ نوجوان نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اگر خاندان کو گھر رہنے کا حکم دیا گیا تو اس کے چھوٹے بچے کے پاس کھانے کے لیے کافی کچھ ہوگا، بالغ لوگ کچھ دنوں تک زندہ رہ سکتے ہیں مگر بچوں کے لیے یہ مشکل ہو گا۔

سپر مارکیٹ سے خریداری کرنے والی ایک خاتون وینگ نے کہا کہ وہ فکر مند ہیں کہ چیزیں ’شنگھائی کی طرح ہو جائیں گی‘۔

شیانگ کی رہاشی خاتون نے مزید کہا کہ لوگ پریشان ہیں اور ہر کوئی سامان خرید رہا ہے اور ہمیں یہ فکر ہے کہ چیزیں ختم ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فیملی نے پچھلے ہفتے کھانے کی بہت چیزیں جمع کردی تھیں، مقامی میڈیا نے بھی بیجنگ میں اسٹوریج کے آلات کی بڑھتی ہوئی فروخت کی اطلاع دی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.