وزیر اعظم دو ہفتوں میں شعبہ صحت سے متعلق بڑا اعلان کرینگے، ڈاکٹر ظفر مرزا
اسلام آباد (امروز نیوز)معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ وزیر اعظم دو ہفتوں میں شعبہ صحت سے متعلق بڑا اعلان کرینگے ،صحت کے اہم شعبے غیر ملکی فنڈنگ پر نہیں چھوڑے جا سکتے،جلد اصلاحات کی جائیں گی، ایڈز اسکریننگ کی 50 ہزار کٹس اور انسدادِ ایڈز کی اضافی ادویات منگوا لی ہیں، ایڈز کے ماہرین کی دس رکنی عالمی ٹیم بھی چند روز میں کراچی پہنچ رہی ہے،غیر محفوظ انتقال خون ایچ آئی وی کے پھیلاو¿کی بڑ ی وجہ ہے،ملک بھر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ایڈز میں مبتلا ہیں، سندھ حکومت کو طویل مدت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے تعاون کرتی رہے گی۔ اتوار کو یہاں معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحت کے شعبے میں جلد اصلاحات کی جائیں گی، صحت کے اہم شعبے غیر ملکی فنڈنگ پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ایک دو ہفتوں میں شعبہ صحت سے متعلق بڑا اعلان کرنے والے ہیں، وزیر اعظم نے کل مختلف ہسپتالوں کے اچانک دورے بھی کیے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ایڈز اسکریننگ کی 50 ہزار کٹس اور انسدادِ ایڈز کی اضافی ادویات منگوا لی ہیں، ایڈز کے ماہرین کی دس رکنی عالمی ٹیم بھی چند روز میں کراچی پہنچ رہی ہے، عالمی ٹیم وزیر صحت سندھ کے مشورے سے بلائی ہے۔انہوںنے کہاکہ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) اور سینٹر فار ڈیسیز کنٹرول ( سی ڈی سی ) کے ماہرین پر مشتمل ٹیم ایچ آئی وی / ایڈز میں اضافے کی وجوہات کی تحقیق کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ماہرین ہمارے مقامی ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے ساتھ ایچ آئی وی میں اضافے کی تحقیق کریں گے تاکہ ہمیں اس کی وجوہات کا صحیح اندازہ ہوسکے اور اسے مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ بچوں کے لیے بھی ادویات فراہم کی جارہی ہیں اور مزید منگوائی جارہی ہیں کیونکہ ناکافی ہے، عام طور پر ہمارے یہاں بچے اس بیماری سے متاثر نہیں ہوتے۔انھوں نے کہا کہ وہ وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو کے ساتھ رابطے میں ہیں، 23 مئی کو لاڑکانہ کا دورہ بھی کیا، سندھ حکومت کو دوائیں افراہم کی جا رہی ہیں، سندھ حکومت کو طویل مدت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے تعاون کرتی رہے گی، غیر محفوظ انتقال خون ایچ آئی وی کے پھیلاو¿کی بڑ ی وجہ ہے۔معاون خصوصی نے کہاکہ رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد میں اضافہ تشویش ناک ہے، 21375 لوگوں کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، سرنجز کے غلط استعمال سے چھوٹے بچوں میں ایچ آئی وی پھیلا، استعمال شدہ سرنجز کو دوبارہ پیک کر کے بیچا جا رہا ہے، ایڈز سے متاثرہ افراد میں 2 تا 12 سال کے 537 بچے شامل ہیں، بچوں کے والدین ایچ آئی وی سے متاثرہ نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ اسکریننگ کےلئے 50 ہزار کٹس کا آرڈر دیا ہے وہ بھی جلد پاکستان پہنچ جائیں گی اور اس کے علاوہ سندھ میں ایڈز کے مستند علاج کےلئے3 ٹریٹمنٹ سینٹرز قائم کیے جارہے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ جب کسی بچے کو ایچ آئی وی کی تشخیص ہوتی ہے تو اسے تمام عمر ادویات کے سہارے گزارنی پڑتی ہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک میں ایچ آئی وے کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 25 ہزار ہے، تاہم اصل تعداد ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ 63 ہزار ہے، ایچ آئی وی ایڈز کے حوالے سے عوام میں شعور بیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کے پھیلاو¿ کی وجوہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تخمینہ سے بہت کم لوگ علاج کرواتے ہیں، اس سے پہلے بھی وقتا فوقتا ایڈز قابو ہوتا رہا ہے، 2016 میں ڈائیلائسز کے 50 مریضوں میں تشخیص ہوئی تھی۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 2008 میں پنجاب میں گجرات کے قریب ایساہی ہوا تھا تاہم ہمارے معاشرے میں لوگ اس مرض کو بدنامی کا باعث سمجھتے ہیں اور اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں،اس حوالے سے آگاہی کی ضرورت ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ خدشہ ہے بچے استعمال شدہ سرنجوں سے مرض میں مبتلا ہوئے،ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کے ٹیسٹ منفی آئے۔انہوںناے کہاکہ استعمال شدہ سرنجوں، خون کی منتقلی، انفیکشن پر قابو پانے کے انتظامات نہ ہونے جیسے مسائل سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے۔