بلوچستان یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو آفیسرز کا اجلاس، وائس چانسلر پر عدم اعتماد کا اظہار

0 153

کوئٹہ  بلوچستان یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو آفیسر زایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت چیئرمین نذیر احمد لہڑی منعقد ہوا۔

اجلاس میں جنرل سیکرٹری نعمت اللہ کاکڑ، وائس چیئرمین محبوب شاہ، جوائنٹ سیکرٹری سید شاہ بابر، فنانس سیکرٹری محمد اسماعیل پرکانی، ایگزیکٹو ممبرز محمد اسحاق پرکانی، محمد اکبر کاکڑ، ارباب طاہر کاسی، شمس اللہ علیزئی اور محمد عالم خروٹی نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس امر پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا کہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر مسائل کو حل کرنے میں بالکل غیر سنجیدہ ہیں۔ آفیسرز ایسوسی ایشن کو مسائل حل کرنے کی بار بار یقین دہانی کے باوجود انتظامیہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

خصوصاً جامعہ بلوچستان کا 86 واں سینیٹ اجلاس کے ایجنڈا نمبر 12 کے منٹس کو معزز ممبران کے فیصلے کے بر خلاف اپنے من پسند اضافی پوائنٹس کے ساتھ چانسلرو چیئرمین سینیٹ جامعہ بلوچستان کو ارسال کرکے ثابت کردیا کہ وہ جامعہ بلوچستان کے آفیسران و ملازمین کے ساتھ کس قدر بغض و عناد رکھتے ہیں۔ وائس چانسلر کے معتصابانہ رویے و کارروائیوں کو آفیسرز ایسوسی ایشن کسی صورت برداشت نہیں کرےگی اور ہر میدان و فورم پر شدید مزاحمت کرکے آفیسرز و ملازمین کے حقوق و مفادات کا تحفظ کریگی۔ ایڈمنسٹریٹو آفیسرز ایسوسی ایشن، یونیورسٹی آف بلوچستان اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد صادق و امین وائس چانسلرنے عرصہ ڈھائی سال کے دوران تنخواہوں و الاﺅنسز کی مد میں آٹھ ملین روپے سے سے زیادہ غیر قانونی طور پر حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے اس غیر قانونی اضافی رقم کے حصول پر آڈٹ پیرا بھی لگ چکا ہے اس کے باوجود موصوف مذکورہ غیر قانونی اضافی تنخواہ و مراعات لیتے جا رہے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اپنی تنخواہوں پر آڈٹ پیرا لگنے کی وجہ سے حاصل کردہ اضافی رقم یونیورسٹی آف بلوچستان کو واپس کردیتے مگر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل غیر قانونی اضافی رقم وصول کرتے جارہے ہیں۔ اس کے بر خلاف یونیورسٹی آفیسرز و ملازمین کے پروموشن پر لگنے والے آڈٹ پیرا کو سیٹل کرنے کے بجائے ایشو بنا کر عرصہ پانچ سال سے پروموشن کمیٹی کی میٹنگ نہیں بلائی جارہی۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ وائس چانسلر کے غیر قانونی اضافی تنخواہ و مراعات آڈٹ پیرا لگنے کے باوجود حاصل کرنے کے معاملے و دیگر غیر قانونی اقدامات جس میں عدالت عالیہ و عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے برخلاف اپنے من پسند ریٹائرڈ افسران کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر تمام مراعات کے ساتھ تعنیاتی میں تواتر کے توسیع کرتے جارہے ہیں۔ جامعہ بلوچستان میں ہونے والے غیر قانونی اقدامات کے تدارک کے لئے عنقریب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ساری صورت حال پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے سامنے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ پیش کرنے کے علاوہ ایک وائٹ پیپر بھی شائع کیا جائے گا تاکہ سول سوسائٹی و سوشل میڈیا، پولیٹیکل پارٹیز اور عوام الناس کو وائس چانسلر کے غیر قانونی اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔ ہمارا یہ اقدام بلوچستان کے قدیم مادر علمی کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ جامعہ بلوچستان کسی فرد گرو ہ یا پارٹی کا نہیں بلکہ صوبے کے عوام کا اثاثہ ہیں۔ اس کے بنانے میں ہمارے اکابرین کی انتک جدوجہد اور قربانیاں شامل ہیں، ہم کسی صورت جامعہ کے تعلیمی و انتظامی ماحول کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے اور اسکا تحفظ و ترقی ہم سب پر لازم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.