گندم بحران پی ٹی آئی کی ساکھ کو شدید دھچکہ۔۔

0 126

کوئٹہ (امروز نیوز)
ہمارے نامہ نگار کے رپورٹ کی مطابق بحران نے گزشتہ برس مئی میں سر اٹھانا شروع کردیا تھا اور اس وقت انتظامیہ کو گندم کی کمی کے امکان سے خبردار کیا گیا تھا لیکن حکومت نے غیر ضروری اقدامات اٹھائے مثلاً گندم کی برآمدات پر پابندی عائد کردی۔
تاہم کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے گندم کی برآمدات پر پابندی کا فیصلہ بھی وزارت تحفظ خوراک کی جانب سے متعدد مرتبہ یاد دہانی کروانے کے بعد بالکل آخر میں کیا گیا۔
علاوہ ازیں متعلقہ محکمے کے عہدیداران سے پسِ پردہ ہونے والی گفتگو میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ فصل سے متعلق تخمینے کے حوالے سے رپورٹس میں اکثر خامیاں پائی جاتی ہیں جو ماضی میں بھی بحران کا سبب بن چکی ہیں۔
مثال کے طور پر سال 2008-2007 میں غلط اندازہ لگایا گیا کہ ملک میں گندم کی اچھی فصل ہوگی جس کے بعد گندم کی ایک بڑی مقدار کم قیمت پر برآمد کردی گئی تھی۔
اسی طرح 2014 میں بھی فصل کے حوالے سے غلط تخمینہ لگایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس سال مئی اور اگست میں گندم کی خریداری اور برآمدات کے حوالے سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔
ملک بھر میں آٹے کا شدید بحران، ارباب اختیار ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے لگے۔
موجودہ طریقہ کار کے تحت صوبوں میں فصل کی رپورٹ دینے والے نظام وفاقی حکومت کو فصل کی پیداوار اور تخمینے کے اعداد و شمار سے آگاہ کرتے ہیں، اس بارے میں وزارت تحفظ خوراک کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’اس بات سے قطع نظر کہ یہ نظام کتنا معتبر ہے، ہمیں اسی پر انحصار کرنا پڑتا ہے’۔
عہدیدار کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس فصل کی نگرانی اور پیداوار کا اندازہ لگانے کا کوئی اور طریقہ نہیں جبکہ گندم برآمد کرنے کا فیصلہ بھی صوبائی حکومتوں کا تھا۔
گزشتہ برس 17 اپریل کو رپورٹ کیا گیا تھا کہ ملک میں 2 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار ٹن گندم موجود ہے جس میں گزشتہ برس کی بچی ہوئی گندم بھی شامل ہے لیکن مئی میں ایک یکسر مختلف صورتحال پیش کی گئی جس سے پریشانی کا آغاز ہوا۔
اس پر وزارت تحفظ خوراک کی جانب سے ردِ عمل جون میں 3 مرتبہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو سمری بھیجنے کی صورت میں سامنے آیا۔
پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق پابندی کے باوجود جولائی سے دسمبر کے درمیان 48 ہزار 83 میٹرک ٹن گندم برآمد کی گئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.