بھارت اور چین آمنے سامنے

0 131

کوئٹہ (امروز نیوز)

بھارت امریکہ کی دوستی اور چین کی دشمنی کے درمیان پھنس گیا ہے ، اگر بھارت ، امریکہ کا ساتھ دیتا ہے تو مشرقی علاقے جاتے ہیں ، کئ متنازعہ علاقوں میں جنگ شروع ہوجائیگی اور اگر امریکہ کی بات نہیں مانتا تو افغانستان و دیگر کئ مفادات سے فارغ ہو جائے گا بھارت چین اور پاکستان کیخلاف بیک وقت جنگ نہیں لڑ سکتا ۔
چینی پیپلز لبریشن آرمی کے پانچ ہزار فوجی ، ہیوی مشینری ، ہیلی کاپٹرز سمیت لداخ میں کئ کلو میٹر اندر داخل ہو کر بیٹھ چکے ہیں اور بھارتی 72 فوجی زخمی کر کے ہسپتال پہنچا چکے ہیں ۔۔۔ بھارتی آرمی چیف نے ہنگامی دورہ کیا ہے ، اس علاقے کا ۔
خطے میں موجود امریکی واحد الائ بھارت تنہائی کا شکار ہے ، چین بار بار بھارت کو خبردار کر رہا تھا کہ امریکہ کے کہنے پر چین کیخلاف کوئی حرکت کی تو بھاری قیمت چکانی پڑے گی ، مگر بھارتی میڈیا مسلسل چین کیخلاف پروپیگنڈہ کرتا رہا ۔ ۔ ۔ سی پیک پر اعتراضات ، رکاوٹیں ، گلگت بلتستان کو واپس لینے کی باتیں ، بلوچستان حملے میں انڈیا کے ملوث ہونے کے شواہد ۔
  جن پر پاکستان ، چین کی جانب سے سخت رد عمل دینے کا فیصلہ ہوا ، بھارت کو فوری اسی کی سرزمین پر سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔
ارونا چل پردیش ، سکم کے بعد اکسائی چن ( Aksai Chin ) کا علاقہ جو لداخ سے متصل ہے ، یہاں جھڑپیں شروع ہیں ۔
  وجہ بنی ارونا چل پردیش کے علاقے میں پل کی تعمیر جو بھارتی افواج کی موومنٹ کے لئے تعمیر کیا گیا ۔ نیپالی علاقے کالا پانی میں سڑک کا افتتاح ، خود ساختہ نقشے کے ذریعے اس علاقے کو بھارتی حصہ ظاہر کیا گیا ۔ جموں کشمیر ، لداخ کو یونین ٹیریٹری کا حصہ بنانے کا اعلان ۔ اس میں وہ متنازعہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر چین دعویٰ کرتا ہے کہ اسکے ہیں ۔
پینگیونگ ٹی ایس او جھیل ، گلوان ویلی میں دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہیں ۔ یہ علاقہ چینی صوبے سنکیانگ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.