سیلابی صورت حال میں کام نہ کیا تو مزید 25 سال پیچھے چلے جائیں گے، ترجمان بلوچستان حکومت

0 144

بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم شاہ کا کہنا ہے کہ موجودہ سیلابی صورت حال میں ہم نے بحالی کا کام نہ کیا تو ہمارا صوبہ مزید 25 سال پیچھے چلا جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ اس مرتبہ پاکستان میں مون سون سیزن وقت سے پہلے ہی شروع ہوگیا تھا، بارشوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

فرح عظیم شاہ نے کہا کہ اب تک صوبے میں 105 افراد ہلاک اور 61 افراد زخمی ہوئے ہیں، ایک ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں، 5 ہزار سے زائد گھر مکمل تباہ جب کہ 7 ہزار سے زائد گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے 220 سڑکیں تباہ ہوئیں جن میں 185 پر ٹریفک کو بحال کردیا گیا ہے۔ 34 سڑکوں پر بحالی کا کام کیا جارہا ہے۔ بارشوں سے 44 پل تباہ ہوئے ییں جب میں سے 38 کو بحال کردیا گیا ہے۔

فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں سے بلوچستان میں موجود بڑے ڈیمز کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا تاہم حفاظتی بندوں اور چھوٹے بیراجوں کو نقصان ہوا ہے، ایک ہزار 20 بندوں کو نقصان پہنچا ہے جن کی بحالی کا کام جاری ہے۔

بلوچستان حکومت کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ریسکیو اور بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں، صوبے کے 3 اضلاع کیچ ، لسبیلہ اور جھل مگسی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، کئی علاقوں کا زمیبی رابطہ منقطع ہے، جس کی وجہ سے ہیلی پاکرز کی مدد سے کام کیا جارہا ہے۔

ہمیں تنقید برائے تنقید پسند نہیں، ہم اپنے کام کے ذریعے عوام میں رہنا چاہتے ہیں، ماضی میں طویل المدتی اقدامات نہیں کئے گئے ، قدرتی آفتوں کو روکا نہیں جاسکتا لیکن ایسے اقدامات ضرور اٹھائے جاسکتے ہیں جن سے نقسانات میں کمی آئے۔ ہم ایسی حکمت عملی تیار کریں گے جس سے مستقل میں عوام کو مستقل میں بہت فائدہ ہوگا۔

سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق ہونے والے 105 میں سے 90 کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے فی کس صوبائی حکومت کی جانب سے دے دیئے گئے ہیں جب کہ دیگر کو بھی جلد امدادی رقم پہنچا دی جائے گی۔

صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو امدادی کارروائیوں کے لیے خصوصی فنڈز جاری کئے گئے ہیں، سیلاب کا سلسلہ تھمتے ہی بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمرز کی بحالی کا کام شروع کردیں گے۔ قدرتی ندی نالوں کے اطراف تجاوزات کو ختم کیا جارہا ہے۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال خراب رہتی ہے کیوںکہ یہاں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام نہیں کیا گیا، کچھ علاقوں میں بنیادی سہولیات تک نہیں، موجودہ سیلابی صورت حال میں ہم نے بحالی کا کام نہ کیا تو ہمارا صوبہ مزید 25 سال پیچھے چلا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.