بارشوں کا سبب بننے والا کم دباؤ عمان کی جانب بڑھنے لگا

0 177

محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں بڑے پیمانے پر بارشوں کا سبب بننے والا کم دباؤ مغرب کی جانب اب عمان کے ساحل کی طرف بڑھ گیا ہے۔

میٹ آفس کے مطابق آج بروز بدھ 27 جولائی کو کراچی میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، جب کہ دن بھر بوندا باندی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ محکمے کے مطابق کراچی میں بوندا باندی کے علاوہ ہلکی اور درمیانے درجے کی بارش کا امکان ہے۔

میٹ آفس کی جانب سے آج کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 28 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کی یش گوئی کی گئی ہے، جب کہ اس دوران ٹھنڈی ہوائیں چلنے کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

کراچی میں مسلسل تیسرے روز وقفے وقفے سے جاری رہنے والی ہلکی اور تیز بارش کے دوران کرنٹ لگنے اور ڈوبنے کے واقعات میں مزید 5 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ شہر کے کئی علاقوں میں بارش کا پانی جمع رہا۔ دوسری جانب سندھ کے دیگر علاقوں میرپورخاص، لاڑکانہ، دادو، قمبر شہدادکوٹ اور ان سے ملحقہ قصبوں، دیہاتوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال رہی۔

پنجاب

لاہور میں آج 27 جولائی سے 31 جولائی تک گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔ لاہور کے ساتھ ساتھ پنجاب کے بیشتر شہروں میں بھی بادل اپنا رنگ ڈھنگ دکھائیں گے۔

آج لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

بلوچستان

بلوچستان اور سندھ میں بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی کے دوران مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق ہوگئے ، جب کہ حال سیکڑوں افراد امداد کے منتظر ہیں۔

پی ڈی ایم کے کے مطابق حالیہ بارشوں سے بلوچستان میں جاں بحق افراد کی تعداد 105 ہوگئی ہے، جب کہ مختلف حادثات میں 62 افراد زخمی بھی ہوئے۔ سیلاب اور بارشوں کے دوران 6068 گھر تباہ اور 712 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ 565 کلو میٹر قومی شاہراہوں، 9 پل بھی سیلاب سے متاثر ہوئے، جب کہ 1 لاکھ 97 ہزار 930 ہیکٹر پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے اوراکی میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 300 افراد امداد کے منتظر ہیں، جہاں شید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آگئے، کچے مکانات بہہ گئے اور لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

امداد کے منتظر افراد کا مسئلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے نوٹس میں لایا گیا جنہوں نے متعلقہ حکام کو پھنسے ہوئے خاندانوں کو ریسکیو کرنے کا حکم دیا۔ ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایک بیان میں بتایا کہ 2 ہیلی کاپٹر اوراکی کے علاقے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے لسبیلہ پہنچیں گے۔

صوبائی حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بیلہ اور اتھل کے علاقوں میں کم از کم 100 لوگوں کو بچایا اور محفوظ مقامات پر منتقل کرکے خوراک اور دیگر ضروری اشیا فراہم کیں۔

شدید بارشوں سے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان 3 رابطہ پلوں سمیت ہائی وے کے کچھ حصے بہہ جانے کے باعث معطل ہونے والی ٹریفک 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی بحال نہ ہو سکی۔

حب ریور کے مرکزی پل کا بڑا حصہ گزشتہ رات آنے والے سیلاب کے باعث منہدم ہو گیا، لسبیلہ انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ کوئٹہ کراچی ہائی وے کم از کم 5 مقامات سے بہہ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہنگول کے علاقے میں کوسٹل ہائی وے کا تقریباً 5 کلومیٹر کا حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.