ویٹو کا جواز لازمی فراہم کرنے کی قرارداد جنرل اسمبلی میں منظور

0 25

لاہور : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اگر ویٹو کا حق استعمال کریں گے تو اس کا جواز فراہم کرنا لازم ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا جواز لازمی فراہم کرنے کی قرارداد جنرل اسمبلی میں متفقہ طورپر منظور کرلی گئی ہے۔ قرارداد یورپی ملک لکتونسٹائن کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔قرار داد کے حق میں اقوام متحدہ کےتمام 193 ممالک نے ووٹ دیا۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اگر کسی معاملے پر اپنا ویٹو کا حق استعمال کریں گے تو ان پرلازم ہوگا کہ وہ اس کا جواز فراہم کریں۔10 دنوں کے اندر جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے ویٹو کرنے والے ممالک سے اس کا جواز مانگا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکا، چین، برطانیہ ، روس او فرانس کے پاس ویٹو کا اختیار ہے۔ کسی بھی معاملے پر اگر کسی ایک رکن نے بھی ویٹو کردیا تو اس مسئلے سے متعلق قرار داد منظور نہیں ہوسکتی۔

روس:

روس نے اب تک سب سے زیادہ مرتبہ ویٹو کا حق استعمال کیا ہے،روس کی جانب سے پہلا ویٹو 1946 میں استعمال کیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک 120 قراردادوں پر ویٹو کرچکا ہے۔سب سے زیادہ ویٹو شام کے معاملے پر کی گئی ہیں۔

امریکا :

روس کے بعد امریکا کا دوسرا نمبر ہے، امریکا نے اب تک 82 مرتبہ ویٹو کا حق استعمال کیا ،امریکا نے ویٹو زیادہ تر اسرائیل سے متعلق پیش کی جانے والی قراردادوں پر کیا۔

برطانیہ اور فرانس:

برطانیہ اور فرانس نے 1989 سے اب تک ویٹو کا حق استعمال نہیں کیا تاہم برطانیہ اب تک 29 بار ویٹو کر چکا ہے جبکہ فرانس نے 19 بار ویٹو کا حق استعمال کیا۔

چین :

چین نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اب تک صرف 17 قراردادوں پر ویٹو کا حق استعمال کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.