آئل ٹینکرز کے معاملے کو 2018 کے الیکشن سے کیا تعلق بنتا ہے ،بی این پی عوامی

0 161

پنجگور ( امروز نیوز) بی این پی عوامی کے ترجمان نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ نیشنل پارٹی آئل ٹینکرز کو پکڑنے والوں کے نام لینے پر بھی خوفزدہ ہے وہ اپنے بیان سے کیا تاثر دے رہی ہے کہ گاڑیوں کو کس نے پکڑا ہے چھاپے مارنے والے کون تھے سب قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکورٹی فورسز کے نام سے جانے جاتے ہیں وہ اپنے بیاں کی وضاحت تو کریں کہ گاڑیوں کو پولیس نے پکڑی ہے لیویز یا ایف سی نے ترجمان نے کہا کہ آئل ٹینکرز کے معاملے کو 2018 کے الیکشن سے کیا تعلق بنتا ہے نیشنل پارٹی اگر کاروباری لوگوں کے نقصانات کا ازالہ نہیں کراسکتی کم از کم ان کے معاملات کو مذید نہ بگاڑے بی این پی عوامی پنجگور کے عوام کی ہمدرد جماعت ہے اس وجہ سے 2018 میں عوام نے بی این پی عوامی پر جو اعتماد کرکے بھاری مینڈنٹ سے نوازا وہ نیشنل پارٹی کے لیے انتہاہی تکلیف دہ ہے اس لیے جب بھی کوئی روڈ حادثہ ہوتا ہے تو اسے بھی بی این پی عوامی کے کھاتے میں ڈالتا ہے ترجمان نے کہا کہ بی این پی عوامی پنجگور کے کاروباری افراد کے ساتھ ہے اور اشتعال انگیزی سے معاملات حل نہیں ہوتے بی این پی عوامی پنجگور کے غریب کاروباری افراد کے کاروبار کے تحفظ کے لیے پرامن اور بات چیت کے زریعے تمام معاملات کا حل چاہتی ہے بلوچوں کے گھر کا تقدس ہر شے پر بالاتر ہے نیشنل پارٹی کے دور میں عوام نے جو سختیاں برداشت کیں وہ بلوچستان کا بچہہ بچہہ جانتا ہے نہ گھر محفوظ تھے نہ شاہراہوں پر مسافروں کو سکوں تھا حتکہ وہ اپنے پارٹی ورکروں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور زیادتیوں پر بھی خاموش رہے نیشنل پارٹی آئل ٹینکرز کے معاملے پر سیاست چمکا کر غریب لوگوں کا مذید نقصان کرارہی ہے ترجمان نے کہا کہ نیشنل پارٹی پنجگور کے کاروبار کو تباہ وبرباد کرنا چاہتی ہے اس ضد وکینہ کی بنیاد پر کہ عوام نے اسے 2018 کے الیکشن میں بری طرح سے شکست دیا تھا نیشنل پارٹی کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کا کاروبار بند ہو تاکہ اس کی پاداش میں وہ بی این پی عوامی کو بدنام کرسکے انہوں نے کہا کہ میراسداللہ بلوچ نے سب سے بڑھ کر پنجگور کے عوام کے لیے آواز اٹھایا اور یہ آواز اس وقت تک گونجتی رہے گی جب تک بلوچستان کے عوام کو ان کا جائز حق نہیں ملتاانہوں نے کہا کہ بارڈر پر کاروبار پنجگور کی معشیت کے لیے اتنا ضروری ہے جتنا انسان کو زندہ رہنے کے لیے سانس کی ضرورت ہوتی ہے خدانخواستہ اگر بارڈر بند ہوگیا تو پنجگور سمیت بلوچستان بھر میں لاکھوں کے حساب سے لوگ بے روزگار ہوجائیں گے بلوچستان کے عوام بالخصوص مکران اور تفتان کے لوگوں کا گزربسر بھی بارڈر سے وابستہ ہے بی این پی عوامی نے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ بارڈر پر عوام کو کاروبار کرنے دیا جائے

Leave A Reply

Your email address will not be published.