بنگلہ دیش میں 3 روہنگیا مہاجرین کو 10 سال قید
ڈھاکہ (امروز نیوز)بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے کالعدم انتہاپسند تنظیم سے منسلک ہونے اور بم بنانے کا مواد رکھنے کے جرم میں 3 روہنگیا افراد کو 10 سال قید کی سزا سنا دی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈھاکا کے خصوصی ٹریبیونل کے پراسیکیوٹر حوالدار صلاح الدین کا کہنا تھا کہ تینوں ملزمان کو 2014 میں ڈھاکا سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا تھا۔صلاح الدین کے مطابق روہنگیا افراد پر جرم ثابت ہوگیا تھا جس کے بعد انہیں بنگلہ دیش کے قانون کے مطابق سزا سنائی گئی تاہم ان میں سے ایک کو غیر حاضری میں سزا دی گئی ہے کیونکہ وہ موقع سے فرار ہوگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ روہنگیا سولڈیریٹی آرگنائزیشن (آر ایس او) سمیت کئی بین الاقوامی کالعدم تنظیموں سے منسلک تھے۔آر ایس او کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ایک چھوٹا سا دہشت گرد گروپ ہے جو 1980 سے 1990 کے دوران میانمار کی ریاست رخائن میں سرگرم تھا۔مقامی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پولیس کی جانب سے تیار کی گئی چارج شیٹ میں کہا گیا تھا کہ 2014 میں بھارتی ریاست ویسٹ بنگال میں بردوان دھماکے میں بھی مبینہ طور پر یہی تین افراد ملوث تھے جہاں دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے اس کے علاوہ مبینہ طور پر بارودی مواد بھی تیار کررہے تھے۔رپورٹ کے مطابق ‘پولیس کی چارج شیٹ میں درج تھا کہ ملزمان نے بنگلہ دیش میں حالات خراب کرنے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا جس کےلئے انہیں بین الاقوامی کالعدم تنظیم کا تعاون حاصل تھا۔یاد رہے کہ اگست 2017 میں میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوج اور مقامی مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے شروع کی گئیں خونریز کارروائیوں کے نتیجے میں مسلمان بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔