بلوچستان کے تمام مسائل کی جڑ کرپشن ہے ،ظہور بلیدی

0 120

کوئٹہ (امروز نیوز)صوبائی وزیر خزانہ و اطلاعات میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام مسائل کی جڑ کرپشن ہے ، صوبائی حکومت صوبے میں الیکشن جےتنے کے بعد کرپشن کر نے کے شیطانی چکر کو ختم کر نے کے لئے پرعزم ہے ،بلوچستان میں جامعہ اور مربوط بلدیاتی نظام لانے پر کام جاری ہے محکمہ صحت کے زیر انتظام چلنے والے بڑے ہسپتالوںکو آﺅٹ سروس جبکہ ایم ایس ڈی کو ختم کرکے تحصیل سطح پر نظام لانے پر کام جاری ہے ،صوبائی پی ایس ڈی پی میں 1366غےر قانونی اسکیمات کو ختم جبکہ 366اسکیمات کو مکمل کر لیا گیا ہے، آئندہ مالی سال کا پی ایس ڈی پی بہتر بنانے کی کوشش جاری ہے ، یہ بات انہوں نے منگل کو نیب بلوچستان کے زیراہتمام میڈیا کے کریشن میں خاتمے کے کردار کے حوالے سے منعقدہ سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، سےمینار سے ڈائر یکٹر جنر ل نیب بلوچستان عابد جاوید ، سنےئر صحافی اوریا مقبول جان ،ارشاد عارف ،کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن ،بلوچستان یونین آف جر نلسٹس کے صدر ایوب ترین نے بھی خطاب کیا،وزیرخزانہ و اطلاعات میر ظہور بلیدی نے کہا کہ ہم نے جمہوریت اور جمہوری نظام کے لئے جدوجہد کی ہے لیکن اب نیا ٹرینڈ آیا ہے کہ الیکشن لڑو ایم پی اے یا وزیر بنو اور کرپشن کر و اور یہ شےطانی چرخہ بلوچستان کو تباہی کے داہنے پر لے آیا ہے کرپشن کی وجہ سے عوام کے مسائل حل ہونے سے قاصر ہیں لوگوں کو انکا بنیادی حق نہیں مل رہا، پیسہ عوام پر خرچ ہونے کی بجائے کہیں اور چلا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ لوگ کرپشن کرنے میں شرم و عار بھی محسوس نہیں کرتے ہماری کوشش ہے کہ اس بلیک ہول پر قابو کریں ،وفاق سے صوبے کو کم فنڈز ملنے پر ہمےشہ شکوہ کیا گیا لیکن جتنا پےسہ ملا کیا وہ عوام پر خرچ ہوا ،انہوں نے کہا کہ فنڈز کی ضلعی اور تحصیل سطح پر منتقلی کے لئے صوبائی فنانس کمیشن بنا نے جارہے ہیں تاکہ فنڈز کو شفاف طرےقے سے عوا م پر خرچ کیا جاسکے،میر ظہور بلیدی نے کہا کہ محکمہ صحت میں ایم ایس ڈی میں کرپشن کی جاتی ہے ہم اےسا نظام لا رہے ہیں کہ محکمہ صحت کا بجٹ ضلع اور تحصیل کی سطح پر خرچ جبکہ کوئٹہ کے بڑے ہسپتالوں کو آﺅٹ سروس کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں کرپشن کی بنیاد پی ایس ڈی پی ہے گزشتہ 10سالوں میں عجیب و غریب بجٹ بنائے گئے ہم محکمہ پی اینڈ ڈی کو بھی بہتر بنا رہے ہیں اور ساتھ ہی مالی وسائل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی سطح پر لے جارہے ہیں تاکہ عوامی مسائل حل ہوسکیں انہوں نے کہا کہ موجود بجٹ میں 600ارب کا تھرو فاروڈ ملا ہے اسکےمات کا نہ سر ہے نہ پاﺅں بے ہنگم پی ایس ڈی پی بنانے سے وسائل ضائع ہوئے صوبائی حکومت نے 1366ایسی اسکیمات جن کے قانونی تقاضے پورے نہیں تھے کو ختم کیا جبکہ 366اسکیمات کے فنڈر جاری کر کے مکمل کیا ،جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کو پلاننگ کمیشن کی پالیسی کے مطابق تشکیل دیں گے ،سانہوں نے کہا کہ بلوچستان میں معدنیات، سیاحت ،فشریز سمیت دےگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقعے موجودہیںہم اب رواےتی انداز سے نکل کر سیاحتی مقامات کو ڈویلپ کریں گے تا کہ صوبے کی آمدن میں اضافہ کر سکیں آثار قدےمہ کے تحفظ کے لئے آئندہ بجٹ میں آرکیالوجسٹ کی 33آسامیاں رکھ رہے ہیں جبکہ خواتین کی پسماندگی کے خاتمے کے لئے جامعہ منصوبہ بنا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں کوتاہیاں کرپشن ہوئی ہیں لیکن اب وقت ہے کہ جو ہوگیا سو ہوگیا اب صوبے کو دوبارہ ٹریک پر لانا ہے عوام نے ارکان اسمبلی کو قانون سازی کا مینڈیٹ دیا ہے ناکہ ترقیاتی منصوبے بنا نے کا ہم ایسا جامعہ اور مربوط بلدیاتی نظام تیار کر رہے ہیں جس سے صوبے میںنچلی سطح تک ترقی ممکن ہو ، انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے حکومت کا ساتھ دے اور مسائل کی نشاندہی کر ے تا کہ حکومت عوامی نوعیت کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کر سکے اور کرپشن کا راستے روک سکے،سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان عابد جاوید نے کہا کہ کرپشن نے ہمارے معاشرے کو تباہ کردیا ہے ہمیں روئےے تبدیل کر نے کی ضرورت ہے لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی آج اگر کسی کو کرپشن کے کیس میں پکڑا جائے تو وہ کہتے ہیں ہمیں کرپشن سے کیوں روکا جارہا ہے میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے میڈیا معاشرے میں ہونے والی کرپشن کی نشاندہی کر ے نیب کاروائی کرےگا ،انہوں نے کہاکہ کرپشن کا دائرہ کار ملازمین سے لیکر اوپر تک جاتاہے جس کی وجہ سے کاروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے نیب کے قانون میں بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ہمیں قانون پر عمل درآمد اور سمجھوتہ نہ کرنے والے افرادکی بھی ضرور ت ہے ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنےئر صحافی اوریا مقبول جان نے کہا کہ معاشرے میں کرپشن کے خاتمے کے لئے سرکاری ملازمین کو دی جانے والی مراعات میں اضافہ کیا جا نا چاہےے تاکہ ملازمین کی بنیادی ضروریات پوری ہوسکیں اور وہ کرپشن کی جانب نہ آئےں ساتھ ہی کرپشن کرنے والوں کا بے رحم احتساب بھی کیا جائے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاست دانوںکو کرپشن سیکھانے والے بیوروکریٹ ہیں کئی کئی سال سیاست کرنے والے افراد آج بھی فائل ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتے ۔سنےئر صحافی ارشاد عارف نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ضرور ہے لیکن ہمارے معاشرے میں آگاہی کے فقدان کی وجہ سے یہ ستون اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر سکتا ،میڈیا آزاد ضرور ہے لیکن قانون کی حکمرانی کے بغیر کرپشن کے ناسور پر قابو پانا نا ممکن ہے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا نے کرپشن کے خلاف اولین دستے کا کردار ادا کیا ہے آج بھی صوبے میں سڑکوں ، صحت، تعلیم جےسے شعبوں میں کرپشن ہورہی ہے جس پر نیب کو کاروائی کرنے کی ضرورت ہے ،سےمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان یونین آف جر نلسٹس کے صدر ایوب ترین نے کہا کہ بلوچستان کو کرپشن کے سےلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جتنے بھی ادروار آئے ان میں کرپشن ہوئی ہے اور یہ کرپشن ہمارے اپنے لوگوں نے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے کی ہے جس کی وجہ سے صوبہ آج پسماندگی کا شکار ہے کرپشن کے خاتمے کے لئے میڈیا سمیت تمام طبقات کوملکر کام کرنا ہوگا

Leave A Reply

Your email address will not be published.