کرپشن کی دیمک نے معاشرے کو کھوکھلا کردیا ہے،نیب

0 144

کو ئٹہ (امروز نیوز)نیب بلوچستان اور میڈیا سے وابستہ صحافیوں و دانشوروں نے کرپشن کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات کے تحت ٹھوس بنیادوں پر عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جوائینٹ وینچر فورم کے قیام پر اتفاق کا اظہار کیا ہے منگل کے روز نیب بلوچستان کے زیر اہتمام کرپشن کے تدارک کے لیے میڈیا کے کردار پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان عابد جاوید نے کہا کہ کرپشن کی دیمک نے معاشرے کو کھوکھلا کردیا ہے آج کرپشن کرنے والا اس بات پر برہم ہوتا ہے کہ اسے کرپشن سے کیوں روکا جاتا ہے حوصلہ افزاءمعاشرتی رویوں کی بدولت بدعنوان فرد کسی بھی شرمندگی یا ہزیمت کے قطع نظر جرات و بہادری سے کرپشن جیسے ناسور کی پرورش و ترویج کرتے ہوئے معاشرے کو اس دلدل کی جانب دھکیلنے میں معاونت کرتا ہے جس سے قانون شکنی و بد عنوانی کا یہ عمل پھلتا پھولتا رہتا ہے اور آنے والی نسلیں اسے برا عمل نہیں بلکہ ایک معاشرتی پہلو سمجھ کر اس زہر سے آلودہ ہورہی ہیں سرکاری امور میں بددیانتی کے مرتکب اہلکاروں اور بدعنوانی میں ملوث سرکاری ملازمین کے لئے جزا و سزا کا قانون موجود ہے لیکن عمل درآمد کا فقدان ہونے کے باعث ادارے بدعنوان عناصر کے ہتھے چڑھ کر عوام کی بہتری کے بجائے مسائل کا باعث بن رہے ہیں ایسے کرپشن کے تدارک کے لیے ایسے آلودہ رویوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کرپشن کی خرابیوں کو اجاگر کرکے اس کی روک تھام کے لئے میڈیا کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا میڈیا کی سیٹ کردہ لائن سے انحرافی کسی بھی حکومت کے لئے ممکن نہیں میڈیا درست سمت میں مسائل کی نشادہی کرے تو کرپشن کی روک تھام ممکن ہے کرپشن کے تدارک کے لیے میڈیا ساتھ دے اس مقصد کے لئے نیب بلوچستان اور میڈیا جوائینٹ وینچر فورم قائم کرکے کرپشن اور مسائل کی نشاندہی اور ان کا موثر حل اور تدارک ممکن ہے اس فورم کے تحت ہر ماہ نیب اور میڈیا کے دوستوں کی بیٹھک کرپشن کی روک تھام اور عوامی اجتماعی مسائل کے حل کے لئے بہترین مشاورتی ذریعہ ثابت ہوگا صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات اور فنانس میر ظہور احمد بلیدی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور ووٹ کا موجودہ تصور الیکشن لڑ کر پیسہ کمانا ہے مسائل کی جڑ کرپشن ہے لوگوں کو پانی تعلیم صحت روزگار و بنیادی حق نہیں مل رہا ماضی میں تسلسل کے ساتھ وسائل کرپشن کی نظر ہوتے رہے۔حقیقی اور پائیدار ترقی کے لئے کرپشن کے بلیک ہولز کو کنٹرول کرنا ضروری ہے انہوں نےکہا کہ بدقسمتی سے ایک عرصہ بلوچستان کو مرکز سے اس کے جائز وسائل نہیں ملے جبکہ محدود سطح پر ملنے والے وسائل بھی بدعنوانی کی نظر ہوتے رہے۔لیکن اب ماضی کی ان روایات کو دفن کرکے ہم نے آگے جانا ہے اور گورننس کو درست سمت پر گامزن کرکے عوامی مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنا ہے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں کو آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ماضی میں پی ایس ڈی پی میں بد عنوانیاں ہوئیں اور انفرادی نوعیت کے منصوبے تشکیل دے کر وسائل کا ضیاع کیا گیا ہم نے رواں پی ایس ڈی پی میں 1366 انفرادی اسکیمات کو ختم کرکے پلاننگ کمیشن کی رہنمائی میں اجتماعی ترقیاتی منصوبے تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ماضی میں چھ سو ارب روپے کے ایسے منصوبے پی ایس ڈی پی کا حصہ بنائے گئے جن کا نہ سر ہے نہ پاوں اور یہ وسائل کا ضیاع ہےبلوچستان میں کرپشن کے ایسے واقعات ہوئے جس پر دنیا دنگ رہ گئی۔ لوکل گورنمنٹ کے امور اراکین اسمبلی نے اپنے ذمہ لے لئیے۔لیکن اب ہم وسائل کو مقامی سطح پر منتقل کر کے ترقی کا پائیدار عمل شروع کرنے جارہے ہیں لاکستان کے سئنیر صحافی ارشاد احمد عارف نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ان معاشروں میں ہوتی ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور عوام باشعور ہوایسے معاشرے میں جہاں کرپشن کی پاداش میں سیاسی خاندان کرپشن کی جوابدہی میں ملوث ہوں عوام کے ووٹ کی بھرپور حمایت اور ووٹوں کے تناسب سے عوام کے شعور کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وطن عزیز میں ہر فرد خود کو قانون سے مبرا اور دوسرے پر اس کا اطلاق چاہتا ہے دیکھنا ہوگا کہ میڈیا کی آزادی کن مقاصد کے لئے استعمال ہورہی ہے۔ ایک گروہ باہر سے پیسے لیکر آزادی صحافت کا استعمال اپنے ہی وطن عزیز کے خلاف کررہا ہے۔ رائے عامہ کا منظم ہونا ہی میڈیا کی وہ طاقت ہے جس سے مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ممکن ہوتا ہے۔ خبر اور آرٹیکل ہی بے اثر ہوجائے تو رائے عامہ کا منظم ہونا ممکن نہیں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی۔ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور قانون کے یکساں نفاذ کے لئے مثبت سمت کا تعین نہایت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ستر فیصد ترقیاتی بجٹ بدعنوانی کی نظر ہوجاتا ہے میڈیا کا بطور چوتھا ستون تصور ملک میں قانون کی حکمرانی سے ہی وابستہ ہے۔ ملک میں تمام مسائل کی جڑ کرپشن سے منسلک ہے ترقی کے لئے کرپشن پر قابو پانا ضروری ہے۔جن معاشروں نے کرپشن پر قابو پایا انہوں نے ترقی کی۔ وطن عزیز سے کرپشن کے خاتمے کے لئے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک کے ممتاز دانشور و تجزیہ نگار اوریا مقبول جان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سب سے پہلے ایم پی اے فنڈ کا آغاز بلوچستان سے ہوا تھا۔فائلوں میں بننے والے ڈیمز زمین پر بنتے تو آج ہم افغانستان کو پانی دے رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں کرپشن کے تدارک کے لئے اداروں کا استحکام ضروری ہے۔قانونا وزیر اعلی سمیت اعلی حکام کو ایک سے زائد ملازمین رکھنے کی اجازت نہیں۔ پاکستان میں سیاستدان کی عمر گزر جاتی ہے لیکن اسے فائل پڑھنے نہیں آتی۔چنگیز خان اور ہلاکو خان نے بھی تعلیم اور طبیب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ لیکن ہم نے کرلیا۔بلوچستان مہر و محبت کی سرزمین ہے۔ صوبے سے ماضی کی خوبصورتی اجڑ گءسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضاالرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے میڈیا نے مسائل کے باوجود کرپشن کی نشاندہی کی ہے منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث صوبائی دارلحکومت میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے سہولت کے بجائے عوام کے لئے زحمت بن چکے ہیں میڈیا نے کوئٹہ میں سیوریج منصوبے میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے باعث افسوس امر ہے کہ معاشرے میں کرپشن سریت کرچکی ہے۔ لوگ شرمندگی کے بجائے بے خوف ہوکر فخر سے کرپشن کرتے ہیں اور پھر کرپشن چھپانے کے لئے سیاسی انتقام کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔بھرتیوں اور ترقی کے عمل میں بھی کرپشن کی جاتی ہے کمیشن لیکر سرکاری اسپتالوں میں دو نمبر ادویات خریدی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات میں بھی میڈیا نے عوام کی حقیقی ترجمانی کی ہے اور ہر طرح کے دباو کے باوجود اپنا کام کرتے رہیں گےکرپشن کی روک تھام کے لئے نیب موثر پالیسی تشکیل دے میڈیا بھر پور ساتھ دے گاماضی میں مقامی اخبارات کو خلاف ضابطہ اشتہارات کے اجراءمیں ملوث ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔کرپشن کے تدارک کے لیے میڈیا نیب سے کندھے سے کندھا ملا کر چلے گا اور نیب کے ساتھ بھرپور تعاون کرینگے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد ایوب ترین نے کہا کہ ماضی میں کرپشن میں ملوث عناصر سے سوشل بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ تاہم دیکھتے ہی دیکھتے کرپشن کے سیلاب نے بلوچستان سمیت ملک بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بلوچستان میں تعلیم صحت اور پینے کے صاف پانی سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اس بھی بڑی وجہ کرپشن اور وسائل کا فقدان ہے۔کرپشن باہر سے آئے لوگوں نے نہیں بلکہ اپنوں نے کی کرپشن کے باعث بلوچستان میں ترقی کے بجائے مزید پسماندگی ہوئی انیوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان نے بذات خود تین سو سے زائد ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی ہے جو ماضی میں سرکاری وسائل سے ذاتی مقاصد کے لئے تشکیل دئیے گئے انہوں نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری میں غیر پیشہ ورانہ افراد کی آمد سے مسائل میں اضافہ ہوا۔ بلوچستان میں کاروباری مقاصد کے لئے ٹھیکہ داری پر کئی اخبار چل رہے ہیں انیوں نے تجویز دی کہ سرکاری ملازمین کی صحافت پر پابندی لگائی جائے انہوں نےکہا کہ بلوچستان میں ایک سیکرٹری نہیں بہت سے لوگ کرپشن میں ملوث ہیں بلا امتیاز ہر طبقے کے لئے کارروائی ضروری ہے نیب قیام پاکستان سے لیکر اب تک کا احتساب کرے۔ قبل ازیں سمینار کی ابتداءمیں نیب بلوچستان کے میڈیا افسر عبدالشکور خان نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاءکو خوش آمدید کہا اس موقع پر ڈائیریکٹر نیب بلوچستان زاہد شیخ و دیگر افسران بھی موجود تھے

Leave A Reply

Your email address will not be published.