اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف کرپشن کی فردِ جرم

0 112

مقبوضہ بیت المقدس( امروز نیوز )اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بدعنوانیوں کے الزامات میں ماخوذ ہونے کے باوجود حالیہ انتخابات میں پانچویں مدت کے لیے منتخب ہوگئے تھے۔اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات میں اپنے دفا ع میں کچھ کہنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔اٹارنی جنرل اویچائی مینڈل بلٹ نے نیتن یاہو کے وکلاءکے نام ایک خط لکھا ہے اور ان سے کہا ہے کہ اگر ان کے موکل نیتن یاہو اپنے خلاف فردِ جرم سے قبل دفاع کا حق استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انھیں حکام کو 10 مئی تک مطلع کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ان کے خلاف بدعنوانیوں کے مقدمے کی 10 جولائی سے قبل سماعت ہوگی۔خط میں کہا گیا ہے کہ ” نیتن یاہو کے وکلاءاپنی فیس کی عدم ادائی پر احتجاج کررہے ہیں اور وہ اپنی فیس کی وصولی تک کیس کی فائلیں لینے سے انکاری ہیں۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو اپنے وکلاءکی فیس ادا کرنے کی غرض سے امریکا میں مقیم دو کاروباری شخصیات سے بیس لاکھ ڈالر کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ان میں ایک ان کا کزن ناتھن ملی کوسکی اور ایک دوست اسپنسر پارٹریش ہے۔تاہم اس ضمن میں اسرائیلی حکومت کی ایک کمیٹی وزیراعظم کی درخواست دو مرتبہ مسترد کرچکی ہے۔یہ کمیٹی بیرون ملک ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کی خواہاں سرکاری شخصیات کی درخواستوں کا جائزہ لیتی ہے۔اٹارنی جنرل مینڈل بلٹ نے فروری میں پولیس کی سفارشات کی روشنی میں نیتن یاہو کے خلاف فراڈ ، اعتماد کو توڑنے اور رشوت خوری کے الزامات میں فردِ جرم عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم ان کے خلاف مواد کو 9اپریل کو منعقدہ عام انتخابات سے قبل جاری نہیں کیا گیا تھا۔ مبادا ووٹر ان سے برگشتہ ہوجائیں اور یہ مواد ایک روز بعد جاری کیا گیا تھا۔نیتن یاہو ان انتخابات میں پانچویں مدت کے لیے وزیراعظم منتخب ہوگئے تھے۔اگر ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزام میں فرد جرم عاید کی جاتی ہے تو وہ اسرائیل کے پہلے برسراقتدار سربراہِ حکومت ہوں گے۔ان کے خلاف دائر کردہ کیسوں میں سب سے سنگین ایک ٹیلی مواصلاتی فرم بی زیق کو فوائد دینے کی وکالت کا الزام ہے۔انھوں نے اس کے بدلے میں بی زیق کے تب چیف ایگزیکٹو کی ملکیتی ایک میڈیا کمپنی سے اپنی مثبت کوریج کروائی تھی۔اسرائیلی قانون کے تحت وزیراعظم کے خلاف جب تک الزامات ثابت نہیں ہوجاتے ،اس وقت تک انھیں مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں۔وہ فرد جرم اور ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں اور ان کے استرداد کے بعد انھیں وزارت عظمیٰ سے سبکدوش کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انھوں نے قبل ازیں کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان الزامات کے باوجود ایک طویل عرصے کے لیے ملک کے وزیراعظم رہنا چاہتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.