سپریم کورٹ کا سوتیلے باپ کے ہاتھوں بیٹے کے قتل کیس میں جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی رہائی کا حکم
اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے سوتیلے باپ کے ہاتھوں بیٹے کے قتل کیس میں جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی رہائی کا حکم دیاہے ۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں سوتیلے باپ کے ہاتھوں بیٹے کے قتل کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔سماعت کے دور ان چیف جسٹس نے کہاکہ ماتحت عدالتوں پر افسوس ہوتا ہے، اگر معاملات صحیح طریقے سے دیکھیں تو سپریم کورٹ تک نہ آئیں۔عدالت نے کہاکہ محمد ریاض نے چھری کے وار سے فیصل اعجاز کو قتل کیا تھا۔ عدالت نے کہاکہ وقوعہ اسلام ٹاؤن کوٹ اسحاق گوجرانولہ میں پیش آیا۔ عدالت کے مطابق فیصل اعجاز والدہ کو ملنے گیا اور مار پیٹ شروع کر دی۔عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم محمد ریاض کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی جبکہ ہائی کورٹ نے جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت عمر قید میں بدل دی۔ عدالت نے کہاکہ اپیل جزوی طور پر منظور ،جتنی سزا بھگت چکا کافی ہے۔بعد ازاں عدالت نے جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی رہائی کا حکم دیدیا۔ یاد رہے کہ 2010 میں والدہ پر تشدد کے الزام میں محمد ریاض نے سوتیلے بیٹے فیصل اعجاز کو قتل کیا تھا۔