عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے،عمران خان
کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، وزیراعظم
ماضی میں صحت کے نظام میں غریب طبقے پرتوجہ نہیں دی گئی،وزیراعظم
اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی قوم طویل مدتی منصوبے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی اور ہمارے ہاں بدقسمتی سے ملک میں 5 سال کے انتخابات کی وجہ سے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوئی،کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، مولانا فضل الرحمان باہر سے فنڈنگ لیتے رہے ہیں انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا، (ن)لیگ کی قیادت لاہور کے قبضہ مافیا کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی ،قبضہ مافیا کو نہیں چھوڑوں گا، کریمنل اقتدار میں آئیں گے تو کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، جسٹس(ر)عظمت سعید معزز اور اچھی شہرت والے جج ہیں اور وہی براڈ شیٹ کی تحقیقات کریں گے، سیاست عبادت ہے، ظالموں اور چوروں کے ساتھ کھڑنے ہونے کا نام نہیں، سینٹ انتخابات میں بھی شفافیت یقینی بنائیں گے، ہماری حکومت میں 11ہزار ارب قرضے بڑھے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمان اور وفاقی وزراءکے اجلاس اورڈاکیومنٹریی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم عمران خان نے ڈاکیومنٹری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے ملک میں بدقسمتی سے ایک بہت بڑا المیہ ہوا کہ جمہوریت کے اندر ہر 5 سال بعد جو انتخابات ہوتے تھے، ان انتخابات کی وجہ سے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ڈیم طویل مدتی منصوبہ بندی سے بنتے ہیں اور جو بھی ملک ترقی کرتا ہے طویل مدتی منصوبہ بندی سے کرتا ہے، چین کو آج ہم دیکھ رہے ہیں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور سپر پاور بننے جارہا ہے تو ان کی ترقی کا ماڈل طویل مدتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب ہم چین میں گئے تو انہوں نے بتایا کہ اگلے 10 سال اور 20 میں کیا کرنے جا رہے ہیں، کوئی بھی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک وہ طویل منصوبہ بندی نہ ہو اور آگے کا نہ سوچیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘بدقسمتی سے ہمارے ہاں 5 سال کی مدت ہوتی ہے، کوشش ہوتی ہے 5 سال کے درمیان جو بھی چیز مکمل ہوجائے تاکہ عوام کو دکھائیں اور پھر اربوں روپے اشتہاروں پر خرچ کریں اور پھر اس کے اوپر الیکشن لڑیں۔انہوں نے کہا کہ اس ہینڈی کیپ نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا، اس نے سب سے بڑا نقصان یہ پہنچایا کہ ہمارے پاس سستی ہائیڈرو بجلی دستیاب تھی، پانی کے ذخائر بھی بن جانے تھے، زراعت کو بھی فائدہ ہونا تھا، بجائے اس کا سوچنے کے ہم نے مختصر مدت میں وہ فیصلے کیے جس کی وجہ سے آج ہم جو بجلی بناتے ہیں وہ سارے برصغیر میں سب سے مہنگی بجلی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جس طرح ہم نے معاہدے کیے کہ چاہے ہم بجلی خریدیں یا نہ خریدیں معاہدے ایسے ہیں کہ 2013 میں بجلی پیدا کرنے والوں کو ہم نے 180 ارب روپے کی ماہانہ ادا کرنا تھا، ہمارے حکومت آئی تو وہ 500 ارب پر پہنچا۔بجلی کی پیداوار پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘2023 میں 1500 ارب روپے بجلی کی کیپسٹی کی مد میں خرچ کریں گے چاہے ہم استعمال کریں یا نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ‘اس کا بھی ایک مسئلہ ہے کہ سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کے استعمال میں بہت فرق ہے، گرمیوں میں اگر 24 ہزار میگاواٹ کے قریب استعمال ہوتی ہے تو سردیوں میں گر کر 8 یا 9 ہزار پر آجاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے سردیوں میں ہم بجلی نہیں استعمال کر رہے پیسے پھر بھی ہم نے دینے ہیں اور اس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کئی معاہدے کیے ہیں جس میں دنیا کے مقابلے میں بڑی مہنگی بجلی حاصل کی، یہ سب اس لیے ہوا کہ مختصر مدتی منصوبہ تھی، اس میں کرپشن بھی تھی اور مختصر مدتی سوچ بھی تھی کہ اگلے الیکشن کا سوچیں اور اس کی بنیاد پر ہم الیکشن جیت کر آگے چلیں۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے 50 سال بعد دو بڑے ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا اور غالبا مہمند ڈیم جلد بنے گا جس کے پشاور پر مثبت اثرات پڑیں گے اورپانی کے مسائل بھی حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں منصوبوں میں صاف بجلی ہے جو اہمیت رکھتی ہے، دوسری بات پانی کا ذخیرہ ہے کیونکہ آگے جا کر پاکستان کو پانی مسائل آئیں گے اور اس کا اثر زراعت پر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت آئی تھی تو 30 ہزار ارب لائبلیٹی اور قرضے 25 ہزار ارب تھے، ہماری حکومت میں ڈھائی سال میں قرضے 36 ارب پر گئے ہیں 11 ہزار ارب قرضے ہمارے دور میں بڑھے ہیں، جس میں سے 6 ہزار کے قرضے پرانے لیے ہوئے قرضوں پر سود لینے پر چلا گیا، 3 ہزار ارب ڈالر کی قیمت 105سے 160 تک گیا تو ڈالر کے قرضے فوری طور پر کچھ کیے بغیر 3 ہزار قرض چڑھ گیا۔انہوں نے کہا کہ روپیہ کی قدر ہماری وجہ سے نہیں گرا کیونکہ ہمیں حکومت ملی 60 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں اور 20 ہزار برآمدات تھیں تو پاکستان کی تاریخ کا خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، اس کی وجہ سے روپے نے گرنا تھا اور جب روپیہ گرا تو 3 ہزار ارب روپے کا قرض بڑھ گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دیگر 2 ہزار ارب کووڈ کی وجہ سے ہماری ٹیکس محصولات 800 ارب کم ہوئی پھر ہم نے ریلیف کا پیکج دیا جس سے یہ سارے قرضے چلے گئے۔قبل ازیں حکومتی وزراءاور ترجمانوں کے اجلاس میں سینیٹ انتخابات سے متعلق بھی مشاورت کی گئی، اجلاس میں وزیراعظم کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، براڈشیٹ اور محکمہ اوقاف کی زمینوں پر قبضوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے اجلاس کے دوران ملک بھر میں اوقاف کی زمینوں پر قابض افراد کے خلاف آپریشن شروع کرنے کی ہدایت بھی کی ۔دوسری جانب وزیراعظم کل ساہیوال کا ایک روزہ دورہ کریں گے جہاں وہ کامیاب جوان پروگرام کے بینر تلے کامیاب کسان منصوبہ لانچ کریں گے۔ معاون خصوصی عثمان ڈار نے کہا ہے وہ کسان جو وسائل کی کمی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا حکومت زرعی شعبے سے وابستہ نوجوانوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کی بدولت غریب اور مستحق افراد صحت کی معیاری سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں ہیلتھ کارڈز کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات میں پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کو پنجاب کی صوبائی کابینہ کی جانب سے حال ہی میں صوبے کی 100 فیصد آبادی کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کی فراہمی کی منظوری کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو پنجاب کی سو فیصد آبادی کو اس سال کے آخر تک ہیلتھ کارڈ کی فراہمی میں اب تک ہونے والی پیش رفت، اور اہداف کے حصول کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس مالی سال کے اختتام تک پنجاب کے 7 اضلاع کی مکمل آبادی کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کر دی جائے گی جبکہ دسمبر 2021 تک پنجاب کے تمام اضلاع میں ہیلتھ کارڈز کی فراہمی کر دی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب میں عوام الناس کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بد قسمتی سے ماضی میں صحت کے نظام میں غریب طبقے کے تحفظ پر توجہ نہ دی گئی۔ ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کی بدولت غریب اور مستحق افراد صحت کی معیاری سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔ اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان، صوباءوزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور سینیئر افسران شریک ہوئے جبکہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے۔