بلوچی ٹوپی ،پگڑی پہننے یا داڑھی رکھنے والا اور بلوچی زبان بولنے والا دہشتگرد نہیں بلکہ دہشت زدہ ہیں، سردار اختر مینگل

0 347

گنداخہ (امروز ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ بلوچی ٹوپی ،پگڑی پہننے یا داڑھی رکھنے والا اوربلوچی زبان بولنے والا دہشتگرد نہیں بلکہ دہشت زدہ ہیں 70سالوں سے جاری اس دہشت سے بلوچستان کی عوام کو بچانے کی ضرورت ہے ،ناانصافیوں سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے خونی رشتیں ٹوٹ جاتے ہیں حالانکہ ہم توآئینی رشتہ جو بزور شمشیر بنایاگیاہے۔میں بندھے ہوئے ہیں خوف میں قومی جدوجہد کو چھوڑا نہیں جاسکتا، دوسروں کو اپنے گھر میں مداخلت کا موقع نہیں دیناچاہیے پہلے اپنے گھر کو سنوارنے کی ضرورت ہے ،قومی میڈیا کی جانب سے بلوچستان کا بلیک آئوٹ ہے ،حقیقی سیاسی جمہوری جماعتوں اور پاکستانی عوام کو ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کیلئے پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ(پی ڈی ایم )کی تحریک کو کامیاب کراناہوگی ۔تو پھر ملک میں حقیقی جمہوریت کی کرن نظرآئیگی بصورت دیگر ریٹریٹ کیا تو پھر انہیں بیگار میں کام کرناپڑے گا،بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین ،تاجر ،زمیندار ،سیاسی جماعتوں نے صوبے کے مسائل کی ذمہ دار قوم پرستوں کو ٹھہرایا تو ہمیں قطار میں کھڑے کرکے گولی مار دی جائیں اور اگر کوئی اور ذمہ دار ہیں تو کم از کم انہیں عدالت کے کٹہرے میں تو کھڑا کیاجائے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سائوتھ اشیاء پریس کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا۔ سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ کریمہ بلوچ کی اچانک موت کے واقعہ سے شکوک وشبہات ہیں مشرف کی انٹرویو کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے ذمہ داران کی بھی ٹویٹ کئے تھے کہ ایک مائنس اور باقی کی باری ہے ،کینڈین حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ دیں میں باہر رہاہوں بلکہ میرے والد سردارعطاء اللہ مینگل نے 13سال جلا وطنی کی زندگی گزاری ہے۔خوف کے باعث اپنی جدوجہد نہیں چھوڑ سکتے ،انہوں نے کہاکہ اپنے گھر کو سنوانے کی ضرورت ہے دوسروں کو اپنے گھر میں مداخلت کرنے کا کیوں موقع دیاجاتاہے ،میں سال پہلے لاہور میں دوست سے دریافت کیاکہ یہ واہگہ بارڈر کتنا دور ہیں تو اس نے کہاکہ 15سے20کلو میٹر ہے تو میں نے کہاکہ اتنا نزدیک ہیں اگر کوئی وہاں سے پتھر پھینکیں تو یہاں لاہوریوں کے سرپر لگے گا۔توانہوں نے کہابلکل تو ایجنٹ یہاں نہیں آتے پھر یہ علاقہ کراس کرکے بلوچستان میں کیسے ایجنٹ پیدا ہوجاتے ہیں ،ایسے حالات کاادراک کرکے ختم کرنے کی ضرورت ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.