ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کا ریڈ زون کی طرف مارچ
کوئٹہ(امروز ویب ڈیسک)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کا ریڈ زون کی طرف مارچ ،پولیس نے ریڈ زون جوانے والے تمام راستے سیل کردئےے ،ڈاکٹرز نے احتجاجاََ انسکمب روڈ پر دھرنادیدیا،جبکہ دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز کا احتجاجی کیمپ 16ویں روز اوراو پی ڈیز سے بائیکاٹ کا ٹوکن ہڑتال 2ماہ 14ویں دن جاری رہی ،سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان اور ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث مریض رل گئے
۔تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ڈاکٹر حفیظ مندوخیل ،ڈاکٹرعبدالصمد پانیزئی ،ڈاکٹر باول لہڑی ،ڈاکٹر ارسلان بلوچ ،ڈاکٹر حنیف لونی کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور ریڈ زون کی طرف مارچ کیاگیا تاہم پولیس کی بھاری نفری کی وجہ سے ڈاکٹرز ریڈ زون میں داخل نہ ہوسکی جس پر ینگ ڈاکٹرز نے احتجاجاََ انسکمب روڈ پر دھرنا دیدیا اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے نماز ظہر ڈاکٹرنور علی کی امامت میں ادا کی گئی ۔ڈاکٹرز کاکہناتھاکہ ہمارے تین بڑے مطالبات ہیں جن میں محکمہ صحت کی پالیسی، سروس اسٹرکچر اور اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور وزیراعلی مذاکرت میں سنجیدہ نہیں ہیں، ہمارے گرفتار ڈاکٹرز دس روز سے جیل میں ہیں مگر ہم نے عوام کی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے انتہائی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی جانب سے محکمہ صحت میں پالیسی ،ڈاکٹرز کی سروس اسٹریکچر اور ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان سے متعلق احتجاجی کیمپ 16ویں روز بھی جاری رہی جبکہ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز میں سروسز کے بائیکاٹ کا سلسلہ2ماہ 14ویں دن میں داخل ہوئی ہے ،کوئٹہ کے 9سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ہڑتال سے دور دراز سے آنے والے مریض رل گئے۔