آواران میں جاری تعلیمی بحران فوری حل کیا جائے، بی این پی آواران

0 179

آواران ( ویب ڈیسک امروز نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی آواران کا اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر میر حبیب اللہ محمد حسنی منعقد ہوا،
مہمان خاص مرکزی رہنما سردار محمد اسلم میروانی اور اعزازی مہمان تحصیل جھاو کے صدر میر اورنگزیب بزنجو تھے،
اجلاس کا آغاز تحصیل جھاو کے رہنما ظہور احمد بزنجو کی خوبصورت آواز میں
تلاوت کلام پاک سے کی گئ،

بی این پی کا مرکزی کونسل سیشن بلوچ قومی حقوق کی تحریک میں اہم سنگ ء میل ثابت ہوگا، سردار محمد اسلم میروانی
کونسل سیشن پارٹی کو توانائی بخشنے کے ساتھ ساتھ نئ سمت کی جانب گامزن کریگی، میر حبیب اللہ محمدحسنی

اجلاس میںں علاقائی سیاسی، سماجی صورتحال سمیت مختلف ایجنڈوں پر بحث مباحثہ کیا گیا،
مزید اجلاس سے مرکزی رہنما سردار محمد اسلم میروانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا پارٹی کارکنان و رہنما مختلف دھونس دھمکیوں ہتھکنڈوں کے باوجود ثابت قدم رہے ہیں، امید ہے انشاءاللہ آئندہ کسی بھی قسم کی انتقامی کاروائی ان کے حوصلے پست نہیں کریگی

، آواران کے جامع مسائل پر بحث کرتے ہوئے سردار صاحب کا کہنا تھا کہ دہائیوں بعد وفاقی فنڈز سے آواران میں روڑوں کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے مگر مذکورہ ٹھیکدارون کی جانب سے غیر معیاری و ناقص مٹیریل کا استعمال کیا جارہا ہے جس کی واضح مثال گزشتہ روز معمولی بارش سے جھاو بیلہ کے ارتھ ورک کا بیٹھ جانا تھا، ہر ڈمپنگ لیونگ کے بعد کمپیکٹ کی جاتی ہے اور اس کے بعد دوسرے لیول کے ڈمپنگ کی جاتی ہے مگر یہاں ٹھیکدار کی جانب سے خانہ پوری کی جاری ہے، عین اسی طرح ہوشاب آواران رور کی صورتحال بھی اس سے ابتر ہے آئے روز ڈیزل بردار گاڑیاں پسلن کے باعث الٹ رہی ہیں،

امن و امان کی صورتحال پر بحث کرتے ہوئے سردار محمد اسلم میروانی کا کہنا تھا کسانوں کو گندم کی پیداوار بڑھانے پر زور دیا گیا، مگر دوسری جانب یوریا،کھاد، دیگر فرٹیلائزر لیجانے پر پابندی عائد کی گئ ہے جس سے مشکے، پیراندر، منگولی، دائرہ، بنڈکی، تنک گرد نواح کے کسان سخت مشکلات کے شکار ہیں، یاد رہے ایران بارڈر کئ عرصے سے بندش کا شکار ہے جس کے بعد اہلیان آواران کا دوسرا بڑا سورس آف انکم سردار محمد اسلم میروانی کی جانب سے آخر میں سیکورٹی اداروں کے اعلی حکام سے اپیل کی گئ کہ آواران میں اپنی پالیسیز میں بہتری کی گنجائش پیدا کریں،

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر میر حبیب اللہ محمدحسنی محکمہ تعلیم کی زبوں حالی پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 176 اسکول بندش کے شکار ہیں، 950 ٹیچنگ آسامیاں خالی پڑی ہیں وزارت اعلی کے منصب کا ہوتے ہوئے بھی تاحال محکمہ تعلیم کے مسائل کے حل کےلئے کوئی اقدام نہ اٹھانا چہ معنی داریت، محض ٹرانسفر و پوسٹنگ سے افراد راضی ہوسکتے ہیں مگر عوامی و اداروں کے اجتماعی مسائل حل نہیں ہوسکتے، اس وقت 250 کے قریب اسکول شیلٹر لس ہیں ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت ضلعی صدر سیاسی دوریوں کو پس ء پشت ڈال کر مطالبہ کرتا ہوں کہ انٹرنیز کو فوری مستقل، زلزلے سے تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ 950 ٹیچنگ آسامیوں پر شفاف بھرتیاں کی جائیں تاکہ آواران میں جاری تعلیمی بحران فوری حل ہو،

اجلاس سے ضلعی پروفیشنل سیکریٹری میر مسعود اختر میروانی نے خطاب کرتے ہوئے ایچ آر اے کے مسائل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ وزارت اعلی کا منصب سنبھالے 3 مہینے کا عرصہ گزر چکا ہے مگر موصوف اب تک ایک پی ڈی تعینات نہیں کرسکے ہیں زلزلہ متاثرین گزشتہ ڈیڑھ سال سے اپنے بقایہ رقوم کی ادائیگی کےلئے رل رہے ہیں مگر ان کی تکلیف کا مداوا کرنے کےلئے کوئی تیار نہیں،

اجلاس سے تحصیل جھاو کے صدر میر اورنگزیب بزنجو نے جھاو میں اسکولوں کی بندش سمیت لوک آفٹر تحصیلدار کی تعیناتی پر کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے حالیہ رولنگ کے باوجود ایک کلرک کو برخلاف قانوں تحصیلدار تعینات کیا گیا ہے جو کہ باپ پارٹی کے مقامی معتبرین کے ساتھ مل کر مخالفین کیخلاف انتقامی کاروائی سمیت مخالفین کی زمینوں پر زور زبردستی قبضے کررہا ہے،

اس کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر آواران کی جانب سے پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئر اہلکاروں کو نظر انداز کرکے ان کے ماتحت و جونیئرز کی تعیناتی پر احتجاج کیا گیا، روش نہ بدلنے کی صورت میں اے سی آفس کے باہر احتجاج سے بھی گریز نہیں کریں گے،
اجلاس میں دیگر پارٹی رہنماوں کی جانب سے ٹاون ایریاز کے بیشتر ٹرانسفارمر کی خرابی اور ان کی سرکاری خرچے پر مرمت و پاسپورٹ آفس کی فوری بحالی پر زور دیا گیا،
آخر میں باہمی مشاورت و رضامندی سے مرکزی کونسل سیشن کی تیاریوں کو حتمی شکل دیتے ہوئے مرکزی کونسلران کا چناو عمل میں لایا گیا،

Leave A Reply

Your email address will not be published.