عوام کی طاقت سے شراب خانوں کو کھولنے نہیں دینگے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ
کوئٹہ(امروز ویب ڈیسک)گوادر کو حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا ہے کہ گوادر کے ہندو برادری نے پریس کانفرنس میں شراب خانوں کی دوبارہ کھولنے کی مخالفت کی ہے عوام کی طاقت سے شراب خانو ںکوکھولنے نہیں دینگے اور عدالت سے بھی رجوع کرینگے صوبائی وزیر فشریز میں اکبر آسکانی ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ روپے فی ٹرالر بھتہ وصول کررہے ہیں یکم مارچ سے کوئٹہ کی طرف مارچ کرکے دھرنا دینگے حق دو تحریک کا تعلق جماعت اسلامی سے نہیں بلکہ جماعت اسلامی نے ہمارے تحریک کی حمایت کی ہے ریکوڈک معاہدے پر خاموش نہیں بیٹھے گے سی پیک سے پنجاب میں ترقی اور بلوچستان میں چیک پوسٹیںقائم کی گئیں اگر ہمارے مطالبات حل نہ ہوئے تو یکم مارچ سے گوادر پورٹ دوبارہ بند کرینگے بیورو کریسی مسائل حل کرنا چاہتی ہے لیکن وزراءاس کی مخالفت کررہے ہیں
اردو چینل مالکان نے ہمیں کوریج نہیں دی اس کے خلاف بھی تحریک چلائیں گے ان خیالات کااظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جماعت اسلامی کے مولانا عطاءالرحمن، ولی شاکر، امان اللہ شادیزئی ودیگر بھی موجود تھے مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ریکوڈک کی سودا بازی نہیں کرنے دینگے جو لوگ اپنے بھائی کیلئے ٹھیکے لے کر اس پر خاموشی اختیار کررہے ہیں ہم عوامی طاقت سے اس ناروا فیصلے کے خلاف احتجاج کرینگے انہوں نے کہا کہ سی پیک سے پنجاب میں ترقی جبکہ بلوچستان کے حصے میں صرف چیک پوسٹیں آئی ہیںجماعت اسلامی نے گوادر حق دو تحریک کی حمایت کی ہے ہماری تحریک کسی چھاﺅنی میں نہیں بلکہ عوامی کے حقیقی تحریک ہے
حکومت صوبائی وزیر اکبر آسکانی کے خلاف کارروائی کرے بصورت دیگر کوئٹہ دھرنے میں ہم وزیراعلیٰ قدوس بزنجو ہٹاﺅ تحریک بھی چلاسکتے ہیںایک سوال کے جواب میں کہا کہ عدالت نے دوبارہ گوادر میں تین شراب خانے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گوادر کے ہندوﺅں نے اپنے مندر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شراب خانے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب سے شراب خانے بند ہوئے ہیں گوادر میں حادثات بند ہوگئے ہیں عوا م کی طاقت سے شراب خانے دوبارہ کھولنے نہیں دینگے اور عدالت سے بھی رجوع کرینگے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صوبائی وزیر فشریز اکبر آسکانی فی ٹرالر ڈیڈھ لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے لے کر انہیں غیر قانونی شکار کی اجازت دیتے ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبائی وزیر فشریز کو فوری طور پر ختم کیا جائے
انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات کے حل میں صوبائی وزراءرکاﺅٹ ہیں بیورو کریسی ہمارے مطالبات حل کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے 25دن تک گوادر میں تاریخی دھرنا دیا ہمارے مطالبات حکومت نے تسلیم کیے تھے لیکن اس پر عملدرآمد ابھی تک نہیں ہوا یکم مارچ سے گوادر پورٹ کو دوبارہ بند کرینگے ہم اپنے مطالبات کے حق کیلئے کوئٹہ تک لانگ مارچ کرینگے اور بلوچستان اسمبلی کے باہر دھرنا دینگے ریکوڈک سے متعلق معاہدے پر خاموش نہیں بیٹھے گے بلوچستان کے وسائل کو لوٹنا بند کیا جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیتھ سکوارڈ کا خاتمہ چاہتے ہیں کہ منشیات کے اڈے دن کی روشنی میں چلتے ہیں اس کو بند کیا جائے انہوں نے کہا کہ گوادر کے سائل سمندر سے بھارت کے ٹرالر پکڑے گئے ہیں ۔