عبدالقدوس بزنجو بیساکیوں کی سیاست کررہے ہیں، سردار رند

0 216

کوئٹہ(امروز ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر سرداریارمحمدرند نے کہاہے کہ بلوچستان میں ظلم کابازار گرم لیکن حکمران بے حسی اور ملزمان کی پشت پناہی کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ،میرعبدالقدوس بزنجو بیساکیوں کی سیاست کررہے ہیں ،وزیراعلیٰ نے چند ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر پہلے سے محرومی کاشکار لاوارث صوبے کو مزید ظلم اور بے بسی کاشکار بنادیاہے ،5،پانچ لوگوں کے قتل میں ملوث ملزمان وزیراعلیٰ کے دست راست بن کر سرکاری پروگراموں میں ساتھ بیٹھتے ہیں ،اگر کچھی میں قتل ہونے والے لوگوں کے قاتلوں کوگرفتار نہیں کیاگیا تو آج کوئٹہ تا جیکب آباد روڈ بند کرنے والے اسمبلی اور ریڈ زون بھی آئیںگے

۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سرداریارمحمدرند نے کہاکہ کچھی میں شٹرڈاﺅن ہڑتال تھا کوئی دکان کھلی نہیں تھی لیکن یہاں بے حس حکومت اور بے حس وزیراعلیٰ براجمان ہے جس نے نہ تو معاملے پر توجہ دی اور نہ ہی نوٹس لیا جس کے بعد مجبوراََ علاقے کے لوگوں نے 16فروری کو جیکب آباد سے کوئٹہ ملانے والی شاہراہ کو بند کرنے کااعلان کیاہے آج صبح شاہراہ بند کرنے کا نوٹس دیا گیاہے ،مسافروں ،ڈرائیوروں کو تکلیف کاسامنا کرناپڑ سکتاہے لیکن اتنا بڑا سانحہ ہواہے کہ لوگوں کے گھروں میں گھس کر قتل کیاگیاہے

3شہید جبکہ 2شدیدز خمی ہیں جو ابھی تک ہسپتال میں پڑے ہیں ان کے فصلات لوٹ لی گئی اور اعوان برادری سے کئی صدیوں سے بیٹھی ہے کو زمین سے بے دخل کیاگیاہے ۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ جس ڈپٹی کمشنر نے عاصم کرد گیلو کے خلاف ایف آئی آر درج کی وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان کا تبادلہ کردیاہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان جو سیاست کرتے ہیں وہ بیساکیوں کی سیاست ہے جو چند لوگوں کی مرہون منت ہے وہ سمجھتے ہیں کہ چند آفیسرز کو ضلع سے ہٹادینے کے بعد کچھ لوگ ان کی منتیں کرکے معافی مانگیںگے مجھے اپنے لوگوں اور دوستوں اور ووٹرز پر یقین ہے ہم نے پہلے بھی 2013سے 2018ءتک دیکھا تھا ایک دن میں 9افراد قتل ہوئے پھر ایک ڈیڑھ سال بعد ہائی کورٹ کے حکم سے ایف آئی آر درج ہوئی ،نصیرآباد اور سبی ڈویژن کے لوگ کچھی کے مظلوم اعوان برادری کے ساتھ یکجہتی کے طور پر احتجاج میں شامل ہوکر انسان دوست ہونے کا ثبوت دینگے

،ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیاجائے کیونکہ ہم سے سیاسی غلطی ہوگئی کہ ہم نے جام کمال کو سپورٹ کیا اور میرعبدالقدوس بزنجو کو سپورٹ نہیں کرسکے ہمیں پتہ تھا کہ وہ اسلام آباد سے بلوچستان کو جس طرح ساڑھے تین ارب روپے میں خرید کرآئے ہیں پہلے یہاں مائنز ومنرلز اور ساحل وسائل بیچی جاتی تھی روڈ اور ہائی ویز بیچے جاتے تھے جس سے ڈیزل ،ڈرگز اور اسلحہ کی اسمگلنگ ہوتی ہے ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس بار بلوچستان کی مکمل حکومت کو بیچ دیاجائے گا اور چند ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر بلوچستان میں ایسی حکومت بنادی جائےگی جو پہلے سے محروم ،لاوارث صوبے کو اور بے بسی ،ظلم وزیادتی سے نچوڑا جائے گا، انہوں نے استفسار کیاکہ حالیہ چار ماہ میں نئی حکومت نے ٹرانسفر پوسٹنگ کے علاوہ اور کیا کیا ہے ؟سرداریارمحمدرند نے کہاکہ وزیراعلیٰ کا بلوچستان اور یہاں کے عوام کوئی ترجیح نہیں ان کا صرف ایک ترجیح ہے کہ وہ اپنے کمٹمنٹ کو پورا کرے ،

گریڈ 17سے لیکر اوپر تک کے آفیسران کا ریٹ لگا ہواہے ،اگریہی صورتحال رہی تو بلوچستان میں سنگین واقعات رونماہونگے اور اس کے نتائج عوام تو بھگت رہے ہیں پاکستان اور پاکستانی عوام بھگتیں گے انہوں نے کہاکہ پورا ضلع بند ہوجاتاہے لیکن کوئی نوٹس نہیں لیاجاتا ،افریقہ میں اس طرح نہیں ہوتا کہ 5افراد کا قاتل وزیراعلیٰ کے ساتھ بیٹھا ہوتاہے ،انہوں نے کہاکہ اقتدار آنی جانی چیز ہے لیکن انگریزوں کا مثال ہے کہ ہردن اتوار نہیں ہوتا لہٰذاءآپ سے درخواست ہے کہ من مانی چھوڑ دیں ،بلوچستان کے عوام کو کیسا پیغام دیاجارہاہے کہ لوگوں کو قتل کرنے والے کھلے عام گھومتا پھیرے اور کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئیں ،ہم اس معاملے کو میڈیا کے ساتھ بلوچستان اسمبلی میں اٹھائیںگے

،ہمارے اپنوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کیاجاتاہے اور لاشیں روڈوں پر پڑی ہوتی ہے ان کاقصور صرف میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنا تھی انہوں نے کہاکہ میڈیا بہت بڑی طاقت ہوتی ہے لیکن ان دو سگے بھائیوں کو ایک چھوٹی سی خبر پر قتل کردیاگیا انہوں نے الزام عائد کیاکہ بلوچستان کو تحفہ دینے والے گورنر بلوچستان اور ڈپٹی اسپیکر کے ساتھ وہی شخص بیٹھا ہیں انہوں نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اقتدار کی غلط فہمی میں نہ رہے یہ تھوڑے دنوں کی کرسی ہے آج قومی شاہراہ بند کیاجائے گا اور متاثرین نے قاتلوں کی گرفتاری تک نہ اٹھنے کا اعلان کیا ہے اور اگلا مرحلہ ہمارا اسمبلی اور زرغون روڈ ہوگا ہم اپنے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر خاموش نہیں ہونگے

،سرداریارمحمدرند نے کہاکہ حب میں 20گریڈ آفیسر کو ہٹا کر18گریڈ کے آفیسر کو تعینات کیاگیاہے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس بلوچستان سے درخواست ہے کہ آپ پاکستان کے ملازم ہیں کسی کے ذاتی نوکر نہیں ہے غیر قانونی اقدامات کوماننے سے انکار کیاجائے اس غیر قانونی تبادلے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وفاق نے اس پروجیکٹ کو اون کرنے سے انکار کردیاہے ،ہماری ہمدردی اعوان برادری کے ساتھ ہیں ۔ظلم کا بازار گرم ہے لوگ کی جان محفوظ ہیں اور نہ ہی عزت وآبرو ۔ متاثرین کو کہاجاتاہے کہ چند نام ہٹادیاجائے مزیدکارروائی مکمل کی جائے گی ،وزیراعلیٰ ہاﺅس سے انکوائری تبدیل کرانے کے احکامات جاری ہوئے ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.