افغانستان کے درمیان تجارت میں سیاست کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، اسد قیصر

0 414

اسلام آباد(امروز ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے طیارے کو سیاسی وجوہات کی وجہ سے گزشتہ سال کابل میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی زیر سربراہی پارلیمانی وفد 9 اپریل 2021 کو کچھ ہی منٹوں میں وطن واپس لوٹ آیا تھا کیونکہ اس وقت کے افغان حکام نے ان کے طیارے کو کابل ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہیں دی تھی

اور پاکستانی حکام نے سیکیورٹی خدشات کو اس کی وجہ قرار دیا تھا۔افغان حکام نے اس وقت توجیح پیش کی تھی کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو کنٹرول کرنے والی غیر ملکی افواج ایئرپورٹ کے ایک مقام پر کھدائی کر رہی تھیں اور اس وجہ سے انہوں نے ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔اب اسپیکر قومی اسمبلی نے واقعے کے تقریباً ایک سال بعد طیارے کو لینڈنگ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات کو سیاسی قرار دیا ہے کیونکہ ان دنوں افغان انتظامیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے

۔اسد قیصر نے اسلام آباد میں پاکستانی اور افغان تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے ایک اجتماع سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا دورہ افغانستان سیاسی وجوہات سے متاثر ہوا اور میں نے اس وقت اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں سے ملاقات میں مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا چاہیے کیونکہ اس سے دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تجارت کے ساتھ ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ متاثر ہوئی ہے۔

اسپیکر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بدقسمتی سے کچھ پالیسیاں معاملات میں رکاوٹ بن جاتی ہیں اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں سیاست کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔اسد قیصر نے پاکستانی اور افغان تاجروں سے دوطرفہ تجارت کو فروغ اور تجارت پر اثرانداز ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تجاویز پیش کرنے کو کہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.