کبھی سوچا بھی نہیں تھا نومبر میں کس کو آرمی چیف لگانا ہے : عمران خان

0 141

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں میں نے آرمی چیف اپنا لگانا ہے۔ میں اللہ کوحاضر جان کر کہتاہوں میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ نومبر میں کس کو آرمی چیف لگانا ہے۔ کبھی نہیں سوچا تھا اپنا آرمی چیف لاؤں گا۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیرکے منہ سے سچ نکل آیا، گیارہ سال پہلے کہا تھا پیپلزپارٹی، (ن) لیگ اکٹھے ہوجائیں گے، ان دونوں کا ایک ہی مقصد چوری کرنا اورکیسے بچنا ہے، ان کوکیسزسے کس چیزسے ڈرہے، عدلیہ آزاد ہے ان کوکس چیزکا ڈرہے؟ مجھے بھی اسی عدلیہ سے انصاف ملا، جب ان کو این آر او نہیں ملتا تو ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، خرم دستگیرنے کہا میں نے آرمی چیف اپنا لگانا ہے۔ میں اللہ کوحاضر جان کر کہتاہوں میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ نومبر میں کس کو آرمی چیف لگانا ہے۔ میری نے تمام زندگی میرٹ پر سمجھوتا نہیں کیا۔ کبھی نہیں سوچا آپنا آرمی چیف لاؤں گا۔اس کا مطلب کیا کوئی اورآرمی چیف آئے گا تواحتساب رک جائے گا اس پرغورکرنا چاہیے۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ نومبرمیں کون آرمی چیف ہوگا، میرے ذہن میں توایسی کوئی بات نہیں تھی، کرکٹ کی زندگی میں کبھی میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی، چیلنج کرتا ہوں ایک آدمی کا بتادیں کسی ایک شخص کی شوکت خانم میں سفارش کی ہو۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پی ٹی ائی کو 2018 میں 19 بلین ڈالر کا خسارہ ملا تھا، ڈار اکانومکس نے ملک جو سالانہ 33 بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا ، ان کی پیدا کی گئی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف میں جانا پڑا، عمران خان سعودی عرب گئے تو ان سے سعودی ولی عہد سے پیسے مانگ نہیں سکتے تھے، کرونا کی صورتحال پر عمران خان نے کہا میں مکمل لاک ڈاون نہیں کروں گا، عالمی ادارے کہہ رہے ہیں جس طرح پاکستان نے کورونا کو ہینڈل کیا وہ بہترین تھا۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت کورونا کی وبا کے دوران بہت پیسہ تقسیم کیا گیا، ہماری معیشت 1 فیصد سکڑی جبکہ امریکا کی معیشت 4 فیصد سکڑی تھی، اس وقت ملک میں بجلی کا شارٹ فال 7 سے 8 ہزار میگا واٹ روزانہ ہے، اس حکومت نے 6 ہفتوں کے بعد منی بجٹ دیدیا ، کم آمدنی والوں کے لئے ساڑھے 4 فیصد گیس ٹریف بڑھا دیا گیا ہے، گزشتہ ہفتے سی ایف ڈی 28 فیصد پر تھا ، آئی ایم ایف سے معاہدے کے بغیر ان کا بجٹ بن ہی نہیں سکتا تھا، اس شرح سود کے ساتھ یہ پیداواری شرح 6 فیصد کیسے دیکھا سکتے تھے؟۔

شوکت ترین نے کہا کہ تیسرا بجٹ آرہا ہے اطلاع ہے 50 فیصد پیڑولیم لیوی عوام پر لگائیں گے، اس حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ 50 فیصد لیوی ٹیکس عائد کرنے کا وعدہ کیا ہے، یہ انکا پرانا پاکستان ہے یہ دوبارہ فکسڈ ٹیکس کی طرف چلے گئے ہیں، 28 یا 29 جون کو انکا نیا منی بجٹ آتا دکھ رہا ہوں، انکی جی ڈی پی 2 سے 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، غربت بڑھے گی، یہ واضح ہے یہ معیشت اور مہنگائی کو ٹھیک کرنے نہیں آئے، انکا مقصد نیب کو ٹھیک کرنا انتخابی اصلاحات اور خود کے فائدہ کے لئے آئے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.