ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس؛ فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

0 211

سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف چوہدری پرویز الہٰی کی درخواست کی سماعت کے لئے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ وزیر اعلیی کے انتکاب کے دوران ڈپٹی اسپيکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف چوہدری پرويز الٰہی کی درخواست پر سماعت کررہا ہے۔

سماعت کے آغاز پر سپریم کورٹ بار ایسوی ایشن کے سابق صدر لطیف آفریدی نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم چاہتے ہیں کہ صورتحال میں بہتری آئے،کچھ درخواستیں زیر التوا ہیں، پارلیمنٹ اور عدلیہ ملکی نظام کا حصہ ہیں، ہماری درخواست ہے کہ فل کورٹ بناکر سماعت کی جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس کا براہ راست تعلق آرٹیکل 63 اے والے فیصلے سے ہے، تمام وکلاء کو سن کر کسی نتیجہ پر پہنچیں گے، عدالت کے سوالات کے تسلی بخش جواب ملے تو ضرور بات بنے گی، سپریم کورٹ بار کے سابق صدور کے دباؤ میں آکر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ مناسب ہوگا 63 اےکی تشریح پر نظرثانی درخواست پہلے سنی جائے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر کی استدعا کے خلاف تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں بھی بار کا سابق صدر ہوں، بار کے صدور کا ان معاملات سے تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے کر رولنگ دی، ڈپٹی اسپیکر نے کہا عدالت کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دیتا ہے۔

عدالت اپنا سوال واضح کرے

دوست محمد مزاری کے وکیل نے دروان سماعت کہا کہ عدالت کا سوال سمجھنےکی کوشش کررہا ہوں لیکن سمجھ نہیں پا رہا، چاہتاہوں کہ عدالت اپنا سوال واضح کرے تاکہ سمجھ آ سکے۔

چیف جسٹس نے عرفان قادر کو مکاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کی بات نہیں سن رہے، آپ نےدوبارہ ججز کی بات کے دوران مداخلت کی تو نشست پر بٹھادیں گے۔

عدالتی ریمارکس پر عرفان قادر نے کہا کہ آپ کو شاید وکلاء کو ڈانٹنے کا حق حاصل ہے، عدالت جتنا بھی ڈانٹ لے میں خاموش رہوں گا۔ جس پر ہم کسی کوڈانٹ نہیں رہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جو نکتہ آپ اٹھانا چاہ رہے ہیں وہ ہم سمجھ چکے ہیں، مناسب ہوگا اب کسی اور وکیل کو موقع دیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ فیصلہ کرتا ہے

وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 63 اے چودھویں ترمیم سے آئین میں شامل کیا گیا، 18ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے میں مزید وضاحت کی گئی، جسٹس عظمت کے 8 رکنی فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ فیصلہ کرتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن ڈپٹی اسپیکر نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلے کے جس نکتے کا حوالہ دیا وہ بتائیں، پارٹی ہدایت اور ڈیکلیئریشن دو الگ الگ چیزیں ہیں، کیا ڈیکلیئریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ایک ہی شخص ہدایت دے سکتا ہے؟ کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کاسربراہ ہو سکتا ہے؟۔

پارٹی پالیسی میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق 2 الگ اصول ہیں

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ پارٹی پالیسی میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق 2 الگ اصول ہیں، پہلے پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے اختیارات میں ابہام تھا، ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کا اختیار دیا گیا۔

آرٹیکل 63 اے پر فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کے خلاف

وزیر اعلیٰ کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کے خلاف ہے، 63اے کے مختصر فیصلے میں پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی پر بحث موجود نہیں، سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اےکے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 63 اےکی نظرثانی درخواستوں میں صرف ووٹ مسترد ہونے کا نکتہ ہے، پارلیمانی پارٹی ہدایت کیسے دے گی یہ الگ سوال ہے، ہدایت دینےکا طریقہ پارٹی میٹنگ ہوسکتی ہے یا پھر بذریعہ خط۔

عوام میں جواب دہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے پارلیمانی پارٹی نہیں

منصور اعوان نے اپنی دلیل میں کہا کہ عوام میں جواب دہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے پارلیمانی پارٹی نہیں، 4 سیاسی جماعتوں کے سربراہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، جے یو آئی ف پارٹی سربراہ کے نام پر ہے، مولانا فضل الرحمان پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں.

سیاسی جماعت اصل میں وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہو

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عوام جسے منتخب کرکے اسمبلی بھیجتی ہے ان ارکان کے پاس ہی مینڈیٹ ہوتا ہے، سیاسی جماعت اصل میں وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہو، پارٹی سربراہ کا کردار بہت اہم ہے، منحرف رکن کے خلاف پارٹی سربراہ ہی ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے، ووٹ کس کو ڈالنا ہے یہ ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی، ریفرنس سربراہ بھیجے گا، کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کا فیصلہ تبدیل کر سکتا ہے؟۔

سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اپنے ارکان کو سننا ہوگا

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک سینئر پارلیمانی لیڈر نے صدارتی ریفرنس کے دوران پارٹیوں میں آمریت کی شکایت کی تھی، بیرون ملک بیٹھے سیاسی لیڈر پارلیمانی ارکان کو ہدایات دیا کرتے تھے۔

جستس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پارلیمانی معاملات میں پارلیمانی پارٹی کا بااختیار ہونا ضروری ہے، آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کیا گیا، سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اپنے ارکان کو سننا ہوگا، پارٹی سربراہ کی آمریت برقرار رہنے سے موروثی سیاست کا راستہ بند نہیں ہوگا۔

آئین واضح ہے کہ ارکان کو ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی

وزیر اعلیٰ کے وکیل کے دلائل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین واضح ہے کہ ارکان کو ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی، آپ کامؤقف ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی تشریح درست ہے، ق لیگ ارکان نے کس کی ہدایات کے خلاف ووٹ دیا تھا؟ اگر عدالتی فیصلہ غلط ہے تو ووٹ مسترد بھی نہیں ہوسکتے۔

عمران خان کی ایم پی ایز کو ہدایت عدالت میں پیش

دوران سماعت منصور اعوان نے وزیر اعلیٰ کے پہلے انتخاب کے موقع پر عمران خان کی ایم پی ایز کو ہدایت عدالت میں پیش کر دیں.

منصور اعوان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پہلے انتخاب میں پی ٹی آئی کو ہدایات عمران خان نے دی تھیں، اگر عدالت چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت کالعدم قرار دیتی ہے تو نئی صورتحال پیدا ہوگی، منحرف ارکان ڈی سیٹ ہونے کے بعد بطور ممبر بحال ہوجائیں گے، منحرف ارکان بحال ہونے پر وزیراعلیٰ کا سابق الیکشن درست قرار پائے گا۔

وزیر اعلیٰ انتخاب کے پہلے اور اب کے کیس میں فرق ہے

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعلیٰ انتخاب کے پہلے اور اب کے کیس میں فرق ہے، الیکشن کمیشن میں ارکان کامؤقف تھا کہ انہیں پارٹی ہدایت نہیں ملی مگر (ق) لیگ ارکان کہتے ہیں کہ پارلیمانی پارٹی نے پرویز الہیٰ کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

تمام عدالتی کام روک کر فُل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟

چوہدری پرویز الہٰی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے، فُل کورٹ تشکیل دینا چیف جسٹس کی صوابدید ہے، کیا تمام عدالتی کام روک کر فُل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟ گزشتہ 25 سال میں فل کورٹ صرف 3 یا 4 کیسز میں بنا ہے، گزشتہ برسوں میں فُل کورٹ تشکیل دینےکی استدعا 15 مقدمات میں مسترد ہوئیں۔

علی ظفر نے کہا کہ حکومت چاہتی ہےکہ حمزہ شہباز زیادہ سے زیادہ دیر عبوری وزیراعلیٰ رہیں، بحران ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے، عدالت نے تحریک عدم اعتماد کیس 4 دن میں ختم کر دیا تھا، دیگر مقدمات اس کیس کیساتھ نتھی کرنے سے صرف وقت ضائع ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.